ایبٹ آباد ( زمونگ سوات ڈاٹ کام ) سوات سے تعلق رکھنے والے نوجوان کے قاتل کو بھی کسی نے قتل کردیا ، تفصیلات کے مطابق بد ھ کے روز شام کے وقت مانسہر ہ ہریپور سنوکر کی لڑائی کا بھیانک انجام سامنے آگیا ہے جہاں ہزارہ یونیورسٹی کے دو طالب علموں کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ، ایبٹ آباد مانسہرہ ہریپور میں طلباء کے شاہراہ ریشم کو بلاک کرکے احتجاجی مظاہرے ، اس ضمن میں سنوکر میں موجود مقتول سلمان خان کے دوستوں نے زمونگ سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہزارہ یونیورسٹی کے طالب علم سلمان خان کی لڑائی دو کزن طیب خان خیل اور چاند نامی نوجوانوں سے یونیورسٹی کے باہر سنوکر کلب میں ہوئی تھی ، جس میں طیب نامی نوجوان نے چاند کے پستول پرفائرنگ کرکے سوات سے تعلق رکھنے والے 21سالہ نوجوان کو قتل کردیا جس کے بعد چاند اور انکے کزن طیب خان خیل فرار ہوگئے ، سلمان خان کے قتل کے چند گھنٹوں بعد ہی طیب خان خیل کی لاش بھی یونیورسٹی کے قریب کھیتوں سے ملی ، جس کے بعد یونیورسٹی کے طالب علموں نے سڑک کو بلا ک کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فی الفور چاند نامی نوجوان کو زندہ یا مردہ گرفتار کیا جائے ، بصورت دیگر شاہراہ ریشم کسی صورت نہیں کھلے گی ، ذرائع کے مطابق مانسہرہ ، ایبٹ آباد اور ہر یپور کی ضلعی انتظامیہ کے افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں مشتعل طلباء کو چاند کی گرفتار ی کی یقین دہانی کرائی ، جس کے بعد رات ایک بجے تک شاہراہ ریشم کو کھول دیا ، سلمان خان اور طیب خان خیل کے لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی ہیں ، پولیس نے مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے ، طالب علموں کے مطابق پولیس کی مٹر گشت رسمی ہوتی ہے سنوکر کلبوں میں عام طور پر نوجوان مسلح ہوتے ہیں ، جبکہ پولیس صرف چرسیوں اور منشیات استعمال کرنیوالوں کو ہی ڈھونڈتی رہتی ہے، سوات سے تعلق رکھنے والے مقتول سلمان خان ہزارہ یونیورسٹی میں پولٹیکل اینڈ سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں جبکہ مقتول طیب خان خیل ہزارہ یونیورسٹی کے منیجمنٹ آف سائنسز میں زیر تعلیم تھے ، یاد رہے کہ دونوں کے قتل میں ملوث قاتل چاند بھی ہزارہ یونیورسٹی کے طالب علم رہ چکے ہیں جن کویونیورسٹی میں کئی غلط کاموں کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا ۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
8342 مناظر