اسلام آباد(زمونگ سوات آن لائن نیوز)متنازعہ ترین ہونے کے باوجود امریکہ کے صدارتی انتخاب کی دوڑ میں آگیڈونلڈ ٹرمپ 14 جون 1946 کو نیویارک میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1968 میں یونیورسٹی آف پینسلوانیا سے اکنامکس میں گریجویشن کیا۔1971 میں والد فریڈ ٹرمپ کی رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن کمپنی کا کنٹرول سنبھالا جس کا نام بعد میں بدل کر دی ٹرمپ آرگنائزیشن رکھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ ‘‘دی ٹرمپ آرگنائزیشن ’’ کے صدر اور چئیرمین ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی دولت کا اندازہ 4ارب ڈالرز تک لگایا گیا ہے۔ دیگر کمپنیوں کے تعمیراتی منصوبوں کی اشتہاری مہم میں اپنا نام بطور فرنچائز استعمال کرنے کا معاوضہ بھی لیتے رہے ہیں۔انہوں نے 1988، 2004 اور 2012 میں صدارتی دوڑ میں حصہ لینے کا عندیہ دیا۔ 2006 اور 2014 میں نیویارک اسٹیٹ کی گورنر شپ کی دوڑ میں بھی کودتے کودتے رہ گئے۔ٹرمپ ماڈل مینجمنٹ کے تحت 1995سے مس یونیورس اور مس یو ایس اے مقابلے بھی منعقد کروا رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ خواتین سے متعلق نازیبا گفتگو کی وجہ سے خبروں میں رہے۔ انتخابی مہم میں ٹرمپ اسلام دشمن اور نسل پرست کے روپ میں سامنے آئے ۔
دوسری جانب سادہ طبیعت اور حس مزاح سے بھرپور شخصیت کی حامل68 سالہ سابق خاتونِ ا وّل، سینیٹر، وکیل اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین کے لئے ہمت اور جرأت کا استعارہ ہیں۔ 26 اکتوبر 1947کو شکاگو میں پیدا ہونے والی ہلیری اورسابق امریکی صدر بل کلنٹن 1975 کورشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔اس سے قبل1974 میں ہلیری اس دور کے مشہور واٹر گیٹ سکینڈل کیس کی پیروی بھی کر چکی تھیں۔ رچرڈ نکسن کے صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد ہلیری کو آرکنساس یونیورسٹی کا فیکلٹی ممبر بنا دیا گیا، وہ وہاں کی پہلی خاتون معلمہ تھیں۔1976 میں جب بل کلنٹن امریکہ کے اٹارنی جنرل منتخب ہوئے تو ہلیری کو صدر جمی کارٹر کے ساتھ کام کا موقع بھی ملا۔ 1978میں32 سال کی عمر میں جب بل کلنٹن گورنر کے عہدے پر فائز ہوئے توہلیری نے بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کردیں۔ آرکنساس کی پہلی خاتون معلمہ ہونے کے ناطے انہوں نے ایجوکیشنل سٹینڈر کمیٹی قائم کی، بچوں کے لئے ہسپتال بنوایااور بچوں کے حقوق کے سلسلے میں چلڈرن فنڈز قائم کئے جس کی وجہ سے انہیں امریکہ کی طاقتور ترین وکیل قرار دیا گیا۔ ہلیری کلنٹن2001سے2009تک بحیثیت سینیٹربھی کام کرچکی ہیں۔2007 میں انہوں نے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی میں نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن باراک اوباما کو اکثریت حاصل رہی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے برسر اقتدار آنے پر ہلیری نے صدر اباما کے ساتھ بطور وزیر خارجہ کام کرنے کو ترجیح دی۔دسمبر2012 میں ہلیری کی جانب سے بحیثیت امریکی وزیر خارجہ مزیدکام کرنے سے معذرت پر سینیٹرجان کیری کو امریکہ کا نیا وزیر خارجہ بنا دیا گیا۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
586 مناظر