کراچی(زمونگ سوات آن لائن نیوز)گورنرسندھ سعیدالزمان صدیقی کی طبیعت خراب ہوگئی،جس کے باعث وہ مزارقائدپرحاضری نہ دے سکے اورگورنرہاؤس کے بجائے اپنے گھرواقع ڈیفنس چلے گئے، گورنرسندھ دن اپنی رہائش گاہ پرگزاریں گے اور عزیزواقارب سے ملاقاتیں کریں گے۔
قبل ازیں جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی نے سندھ کے 31 ویں گورنر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔گورنر ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ نے جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی سے حلف لیا۔اس سے قبل جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی سرکاری پروٹوکول میں گورنر ہاؤس پہنچے، جہاں انھیں سلامی دی گئی۔جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کو رواں ہفتے 9 نومبر کو ڈاکٹر عشرت العباد کی جگہ گورنر سندھ مقرر کیا گیا تھا۔صدر مملکت ممنون حسین نے وزیراعظم نواز شریف کی ایڈوائس پر نئے گورنر سندھ کے تقرر کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔گورنر سندھ مقرر کیے جانے کے بعدمیڈیا سے گفتگو میں اپنی ترجیحات کے حوالے سے جسٹس سعید الزماں نے بتایا کہ ان کی سب سے پہلی ترجیح امن و امان کا قیام ہوگا۔ان کا کہنا تھا، ‘حکومت کے ذمہ اہم کام امن و امان کا قیام ہے، جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور گورنر پر آتی ہے، اگر کراچی میں امن ہوگا تو یہاں کاروباری سرگرمیاں پھلے پھولیں گی۔’جسٹس سعید الزماں صدیقی سابق چیف جسٹس آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں، وہ 2008 میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر صدارتی امیدوار تھے۔جسٹس سعید الزمان صدیقی نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا۔سعید الزماں صدیقی یکم دسمبر 1937ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لکھنو سے حاصل کی۔ 1954 ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں گریجویشن کی ، جامعہ کراچی سے 1958ء میں وکالت کی ڈگری لی۔0 196ء4 میں بار سے وابستہ ہوئے اور 1963 ء 4 میں مغربی پاکستان ہائیکورٹ میں انرول ہوئے۔ 1969ء میں سپریم کورٹ سے جڑ گئے۔ وہ بار کے مختلف عہدوں پر بھی فرائض انجام دیتے رہے۔ کراچی ہائی کورٹ بار کے جوائنٹ سیکریٹری منتخب ہوئے۔ 1980ء میں سندھ ہائیکورٹ کے جج اور 1990ء4 میں چیف جسٹس بنے۔ 1992ء میں سپریم کورٹ کا حصہ بنے۔ یکم جولائی وہ دن ہے جب انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالا۔ 26 جنوری 2000ء کو پرویز مشرف دور میں پی سی او کے تحت دوبارہ حلف اٹھانے سے انکار کیا اور عہدہ چھوڑ دیا۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
747 مناظر