پچھلے دنوں بحرین سے کالام روڈ دیکھنے کا موقع ملا ، میں حیران ہوکر حکومت اور علاقہ مکین کی حالت زار پر رونے کو جی چاہا لیکن پھر دل کو سنبھالا دیا اور دل ہی دل میں اپنے اپ کو تسلی دینے لگا ۔ کہ ہمارا تو اتنے بس میں نہیں کہ ہم روڈ بنا سکے اور عوام کو بھی اپنے طرح شمار کرنے لگا، البتہ غصہ آرہا تھا تو وہ صوبائی حکومت کی غفلت اور نا اہلی پر آریا تھا کہ بجائے اس کے دوسروں نئے جگھوں کو سیاحت کیلئے موزوں قرار دیتے ہیں لیکن پہلے سے سیاحتی مقام اور جنت نظیر خطے کے خوشحالی کیلئے کوئی دوررس اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں۔
سوات کالام روڈ انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے حکومتی آتی اور جاتی ہیں لیکن کسی کی سر پر جو نہیں رینگتی ، وفاق اپنی طرف وعدے وعید پر اکتفا کرتی ہیں اور صوبائی حکومت ہر وقت وفاق سے فنڈ نہ ملنے کا روگ روتی رہتی ہیں۔
قربان جاو علاقہ مکینوں کی کہ پچھلے عذاب سیلاب میں سارا سڑک پانی کی نظر ہو گیا تھا لیکن باہمت علاقہ مکینوں نے مشران کے توسط سے نئی سڑک کی داغ ڈال کر پہاڑوں کو کھودا اور اپنی مدد اپ کی تحت نئی سڑک کی بحالی میں کامیاب ہوگئے، علاقہ مکینوں سے جتنا ہوسکتا تھا اس نے اپنی جان جھوکوں میں ڈال کر دودھ کی نہر نکال لی۔ اور اس طرح نا پختہ سڑک بنا دیا ۔ یاد رہے کہ پرانا سڑک جس پر تار کول بچا ہوا ہے اس کا نام و نشان باقی نہیں ، بحرین سے کالام تک کا راستہ 35 کلومیٹر پر مشتمل ہے لیکن بوجہ نا پختہ سڑک پہاڑی گھنٹے بھر کا راستہ گھنٹوں میں طے ہونے لگتا ہیں ۔
صوبائی حکومت نے موٹر بنانے کی ٹھان لی ہے صوابی سے چکدرہ تک موٹر بنانے کا منصوبہ بنا یا گیا ہے ۔اور سال کے اخر یا دوسرے سال کے وسط تک یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ پائے گا ۔سوات میں دیگر کئی روڈوں پر کام شروع ہوکر بعض کو ختم کیا گیا ہے ۔ مینگورہ سے مرغزار روڈ حاجی بابا سے جامبل روڈ پر کام ختم ہوچکا ہیں ۔ملم جبہ روڈ پر کام پائپ لائن میں پڑا ہے ۔اور ٹھیکدار جو کہ وفاقی حکومت کا نمائندہ ہیں کام کی تکمیل میں روڑے اٹکاتے ہوئے کبھی فنڈ اور کبھی دوسرے پہچیدگیوں کا سہا را لیکر کام نہیں کرنا چا رہا اور اس روڈ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا چکر چلا رہا ہیں ۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد ٹورازم وزارت صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنائی گئی ہیں ۔سوات کے لوگوں کا سیاحت سے معیشت وابسطہ ہیں اور جتنے یہا ں پر سیاح ائینگے اتنے یہاں پر خوشحالی ہوگی ،ماضی قریب میں دہشگردی کے واقعات نے سوات کے انفراسڑکچر،انڈسٹری ،سکول،کالج ، پلیں وغیرہ تباہ و برباد کردی تھی تاہم حکومت، فوج این جی اوز اور غیر ملکی امداد سے اس میں کچھ نہ کچھ بحالی آئی ہوئی ہیں ۔لیکن پوری بحالی اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک سیاحت بحال نہیں ہوجاتی اس وقت تک ممکن نہیں کہ حالات کے تبدیلی کے اثار نمودار ہوجائیں۔
صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ بحرین سے کالام روڈ پر فی الفور کام شروع کرلیں ۔کیونکہ یہاں کے عوام کا گلہ بجا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم سواتیوں نے تحریک انصاف کو اس لئے ووٹ دیا تھا کہ انہوں نے تبدیلی کا نعرہ لگوایا تھا ۔اب جبکہ ان کو حکومت ملی ہوئی ہیں تو یہ حکومتی اکابرین چشم پوشی کر رہے ہیں ،اور ابھی تک کوئی واضح تبدیلی کے اثار دکھائی نہیں دئیے ہیں۔ اکا دکا سڑک بنا دئیے لیکن عوام کا درینےمطالبوں میں کوئی پورا نہیں ہوا ہے ۔وفاق کو بھی چاہئیے کہ وہ سوات کے عوام کے حالت زار پر ترس کھاتی ہوئی اسے سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھائے ۔ بلکہ صوبائی حکومت کیساتھ مل کر عوام کے درینہ مطالبات کو پورا کریں ۔
کس سے پوچھے کس کو گلہ کریں کس کو رونا روئے کوئی بھی تو سننے اور سمجھنے والا نہیں ہے ۔پاکستان کی بقا کی جنگ سواتیوں بشمول قبائیلیوں نے لڑی ۔الٹا کیا ملا خا ک چانے کو بچے کچے سڑک ۔ سب کو پتہ ہے کہ کاروبار کا کیا حال ہیں ۔دہشگردی کے واقعات کے وجہ سے ہیوی انڈسٹری یہاں سے چل کر پنجاب اور کراچی چلی گئی ،لوگ بیروزگار ہوگئے ۔سڑکیں خراب ہوئی۔ہوٹل ویران ہوئے ۔کاروبار یں ٹھپ ہوگئے ۔اگر کسی کی کاروبار اور مزے ہیں تو وہ حکمران ٹولہ ہے ۔باقی سب کی قسمت ہی خراب ہے ۔ کبھی ٹیکس کا ڈھونگ رچا کر عوام کے مسائل سے توجہ ہٹانے کا پروگرام کیا جاتا ہیں ۔ کبھی کسٹم چور گاڑیوں پر ٹیکس لاگو کرنے کے طریقے سوچے جاتے ہیں ۔چارو نا چار عوام کی مسائل جھیلنی کی بھی کوئی حد ہوتی ہیں جب وہ حد پورا ہوگا تو حکمرانوں کو سر چھپانے کا ٹھکانا نہیں ملے گا ۔اب بھی وقت ہیں سوات کے عوام کے خوشحالی کیلئے ہیوی انڈسٹری ،میگا پراجیکٹ ،اور کاروباری قرضے دینے کا فی الفور اعلان کیا جائے ۔اور سوات کے عوام کو پینے کے صاف پانی دینے کے انتظامات کئے جائیں ۔ویسے تو ہزاروں مسائل ہیں لیکن اس میں سب سے بڑھ کر معیشت کی بحالی سر فہرست ہیں اور سوات کی معیشت سیاحت اور سڑک کے بغیر نا ممکن ہیں ۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
722 مناظر