لاہور(زمونگ سوات آن لائن نیوز )پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ پشاور اور درگاہ شاہ نورانی پر دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری داعش کی طرف سے قبول کرنا خطرے کا الارم ہے،داعش دہلیزتک آ گئی حکمرانوں کی مصلحتوں کی سزا قیمتی جانی و مالی نقصان کی صورت میں ملک اور قوم بھگت رہے ہیں،کرپشن اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث حکمران دہشت گردی کے نئے چیلنجز سے اراداتاً نظریں چرارہے ہیں،کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ قائم ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ مضبوط ہورہا ہے، ایکشن پلان پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ کون ہے ،ذمہ داروں کے تعین کیلئے ایسا کمیشن بننا چاہیے جس میں اکثریت قومی سلامتی کے ادارے اور ایجنسیوں کے ارکان کی ہو،دہشت گردوں کے خلاف پہاڑوں میں جیتی جانیوالی جنگ کو سیاسی میدانوں میں نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ٹیلی فون پر سنٹرل کور کمیٹی کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ گزشتہ 2 سالوں میں ضرب عضب کے سوا دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ دہشت گردی کے انفیکشن کے خاتمے کیلئے تنہا بندودق کا استعمال کافی نہیں اس کیلئے انتہا پسندانہ رجحانات ،رویوں، گورننس کو جنم دینے والے افکار کو تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے 20 نکات پر عمل ہو جاتا تو صورت حال اتنی گھمبیر نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام تر تحفظات اور خدشات کے باجوود ملک کے وسیع تر مفاد میں قومی ایکشن پلان کی حمایت کی مگر حکمرانوں نے عمل نہ کر کے غداری کی۔ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ موجودہ حکمران اور دہشت گرد ایک پیج پر ہیں۔دہشت گرد بھی ملکی سلامتی اور فوج سے کھیل رہے ہیں۔ حکمران بھی یہی کچھ کررہے ہیں ۔پنجاب میں رینجرز کو آپریشن کی اجازت نہ دینا اور سرل لیکس اس کے ناقابل تردید ثبوت ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمران خاندان کی ملوں میں بھارتیوں کی ماورائے قانون اجازت ناموں اور ویزوں کے اجراء کے ثبوتوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ قوم کو اس کا جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فروغ امن نصاب مرتب کیا جس سے دنیا کے مسلم اور نان مسلم ممالک استفادہ کررہے ہیں جبکہ دہشت گردوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے تعصب اور انتقامی رویوں میں ڈوبے ہوئے حکمرانوں نے انسانیت کیلئے انجام دی جانے والے اس علمی اور تحقیقی خدمت سے استفادہ کی بجائے ہمیں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اور ہم پر انصاف کے دروازے بند کیے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی ایکشن پلان کی ہر شق پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد تیز کیا جائے اور سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کو کنٹرول کرنے کیلئے پنجاب میں رینجرز آپریشن کیا جائے۔دریں اثناء سربراہ عوامی تحریک نے بھمبر سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی مذمت کی اور پاک فوج کے جوانوں کی شہادت پر دلی دکھ کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو بلاتاخیر اقوام متحدہ سمیت جملہ متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
811 مناظر