بلا شبہ ہر مردو عورت کو با معنی اور خوشحال زندگی گزارنے کاحق دستور پاکستان میں دیا گیا ہیں ۔اگر زوجین کے درمیان حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے، انس ومحبت اور خوشحال زندگی کی ضمانت نہ ہو تو میاں بیوی کو اخلاقی ،قانونی اور شرعی طور پر جدائی کے حقوق دیئےگئے ہیں ۔ اس حق کے دفاع کیلئے ہر دوافراد کو عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ۔اس مقصد کےحصول کیلئے پاکستان میں عدالتیں فیملی قوانین کو بروئے کار لاتے ہوئے زوجین کے حقوق کی نگہبان ہوکرفیملی معاملات اور مسائل کو نمٹاتی ہیں ۔ عدالتیں مقدمے کے سماعت سے پہلے اور شہادت فریقین کے بعد کیس کو فیصلہ کرنے سے پیشتر جوڑے کو راضی نامہ ،مفاہمت اور مصالحت کی پیشکش کرتی ہیں ۔ مصالحت اور راضی نامہ نہ ہونے کیصورت میں عدالت اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے۔ عدالتوں اور قانون کی اسکیم ہی یہی ہے کہ کسی طرح فریقین میں صلح کی گنجائش نکالی جاسکے۔ تاکہ فریقین میں صلح ہوکر پھر سے گھر آباد ہوسکیں۔
شادی سماجی معاہدہ اور ایک ایسا بندھن ہے جس سے خاندان بنتے ہیں۔دراصل شادی نظریات و عقائد کے ہم اہنگی کے بنیاد پر ہوتی ہیں ۔ لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ہر گزرتے دن کیساتھ سماجی ساخت بکھر تے کر خاندانوں میں نفرت ،بغض و عناد معاشرے میں طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحانات ، سنجیدہ تباہ کن سماجی اور خاندانی نظام کی تباہی وبربادی کا سبب بن رہا ہیں۔کسی کو مسئلے کے نزاکت کا احساس ہی نہیں کہ کیا ہوچکا ہےاور کیا ہونے جارہا ہے ؟
فیملی عدالتیں انصاف کی حصول کیخاطر میاں بیوی کے درمیان مختلف مسائل کے حل کیلئے کوششیں کرتی ہیں،ساتھ ہی مصالحت کے کارروائی سے گزار کر، جوڑے کے مسائل کی تفہیم اور معاملہ نمٹانے سے لیکر کیلئے وکلا سے لیکر جرگوں اور راضی نامہ کرنے پر زور دیتے ہیں، تاکہ کسی طرح میاں بیوی کے درمیان مصالحت کی گنجائش نکل آئے ۔ عدالتیں بہر صورت فیملی قوانین کے تحت شادی کو برقرار رکھنے کی حمایت اورکوشش جاری رکھتی ہیں۔
ہم اج کی نشست میں پُر امن شادی شدہ زندگی گزارنے اور عدم اتفاق کے باعث طلاق حاصل کرنے ،مصالحت، راضی نامہ اور فریقین مقدمہ کے بعد کے حالات پر بحث کریں گے ۔تاکہ وہ امور سامنے آسکیں جس سے طلاق و اقع ہونے کے بعد فریقین ، بچوں،خاندانوں اورمعاشرے پر ممکنہ غلط اور خراب اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ اس طرح وہ کون سے عوامل ہے جن سے خاوند اور بیوی کامیاب شادی شدہ زندگی گزارنے کے اہل ہوسکتے ہیں؟
مسلم میرج ڈیزہ لوشن ایکٹ مجریہ 1939، مسلم فیملی لاز آرڈیننس مجریہ 1961 ،فیملی ایکٹ مجریہ 1964ء کے دفعات کےمطابق طلاق حاصل کرنے میں اساینوں نے شوہر کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی بجائے طلاق کے لئے عدالت آنے کے لئے عورتوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔صرف ایک لفظ ’’خلع ‘‘کی ایزادگی سے طلاق سے متعلقہ فیملی لاز میں طلاق کی حصول کیلئے زبردست جگہ مل گئی ہے۔ اس سنگین معاملے پر نظر ثانی اور خلع کے سائے میں طلاقوں کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہیں۔ فیملی لا ز ایکٹ میں خلع کے علاوہ تمام دوسری وجوہات کو گرہن لگ چکا ہیں اور شاذ و نادر ہی دیگر وجوہات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ جب خلع فیملی کورٹ ایکٹ مذکورہ سے پہلے رائج نہیں تھاتو اس وقت طلاق لینے کی چانسز انتہائی کم اور راضی نامہ کرنے کے مواقع زیادہ تھے ۔یہ وہ وقت ہیں جہاں ہمیں سوچنا ہوگا کہ خلع کے بجائے دوسرے وجوہات پر بھی نطر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہیں ۔لیکن اب حالات یکسر مختلف ہے۔خلع اس مقصد کیلئے رائج کیا گیا تھا کہ بعض دوسری صورتوں میں طلاق لینا دشوار تھا،لیکن ایک عرصہ سے خلع ایک ہتھیار کے طور شادی کے بندھن کو تھوڑنے کے کام آتا ہے ۔نتیجتاً شادی کے بندھن کے توڑنے کے وجہ سے معاشرےکی ساخت میں بگاڑ اور تباہی کے اثرات شروع ہوچکے ہیں ۔ اب حال یہ ہے کہ خاندانی زندگی کے دائمی رشتے اورخوشیوں کے تصورات اپنا اعتماد کھو چکے ہے۔خاندانوں میں طلاق کی بہت زیادہ بڑھتی ہوئی شرح نے ہمارے معاشرے کے اعلی روایات، اخلاقی اقدار اور ثقافت کو پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ اور کثرت طلاق کیوجہ سے ہم معاشرے کو منقسم خاندانوں میں بٹتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کونسے وجوہات ہے جس سے خاندان اور گھرانے بکھر جاتے ہیں، اور طلاق ہوجاتی ہے۔ان میں شوہر بیوی پر بہت زیادہ دباؤ ڈال کرزور و زبر دستی کرتا ہے ۔شوہر کی طرف سے مسلسل پابندیاں ڈال دینا کہ والدین کے گھر نہیں جانا، خریداری نہیں کرنی ،والدین سے پوچھ کر جانا فلاں کام کرنا ،فلاں سے بات نہیں کرنا، تنگ کرنے کے بہانے ڈھونڈنا، وغیرہ اس طرح عورت کو شناخت کھو نے اور اعتماد کا فقدان ہونے کا ڈر لگ جاتا ہے۔ اس طرح عورت طلاق لینی کو کوشش شروع کرتی ہوئی عدالت سے رجوع کرلیتی ہیں۔
طلاق کے حصول کے لئے سب سے زیادہ اور عام وجہ سسرال اور نند کی بلاوجہ مداخلت ہوتی ہے۔ شادی کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ شوہر کے بہن اور ماں کیساتھ امیز رویہ اور شوہر کی انتہائی توہین ، مار پیٹ، بد کرداری پر مائل کرنا ،جائیداد سے بے دخلی ،مذہبی فرائض سے روکھنا،غیر اخلاقی کاموں پر مجبور کرنا ،جسمانی اور ذہنی تشدد،زیادتی و ناراوا سلوک ، گالی اورظلم وغیرہ شامل ہیں ۔ بعض دیگر صورتوں میں بھی بیوی کسی صورت تیار نہیں ہوتی کہ سسرال کے گھر میں رہائش اختیار کرے۔ با مر مجبوری مرد عورتوں کو علیحدہ رہائش بھی دے دیتا ہیں لیکن بسا اوقات پھر بھی فریقین میں راضی نامہ کی صورت نہیں نکل آتی ۔ اس کے برعکس جہاں فریقین میں شادی کی حرمت شوہر اور بیوی کی طرف سے برقرار رکھا گیا ہےاور اپنے معمولی جھگڑوں پر سمجھوتہ کئے ہوئے ہیں وہ گھرانے خوشحال زندگی گزارتے ہیں ۔
طلاق کی ایک بہت ہی بڑی اور شرمناک وجہ جنس مخالف میں دلچسپی ہوتی ہیں ۔یہی وجہ طلاق پر منتج ہوکراٹوٹ بندھن کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیتی ہیں ۔ بسا اوقات بیوی اپنے شوہر اورجگر گوشوں کو چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ بیوی اپنے شوہر سے توقعات رکھتی ہے اس وجہ سے بھی اکثر اوقات طلاق لینے تک نوبت ا ٓ جاتی ہیں ۔ شوہرکی اپنی بیوی کی طبی علاج میں کوتاہی و ہمدردی کی جذبات نہ ہونا بھی طلاق کی وجہ بنتی ہیں۔ بلکہ بعض اوقات شوہر کی جنسی نا آسودگی بھی طلاق لینے کی اصل وجہ بنتی ہے ۔ بیوی کی نافرمانی ، ناشیز ہ ہونا، گھر میں بلا کسی معقول وجہ آباد ہونے سے انکاری ہونا ، دروغ بیانی ،عزت و احترام نہ ہونا ، جہالت اور سادہ لوحی طلاق کی پہلی بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری وجوہات شوہر اوربیوی کی دھوکا دہی ،ظلم و زیادتی ،مار پیٹ ،غلط سرگرمیاں اور برے کردار ہیں ۔ شادی کی ناکامی کی تیسری وجہ شوہرکی غلط اور بری خواہشات ،حق مہر و نان نفقہ کی عدم ادائیگی ہوتی ہے ۔
فسخ نکاح کے وجہ سے فریقین کے بچوں کےماضی و مستقبل کی نان نفقہ کی حوالگی ،جہیز کی وصولی ،نان نفقہ عدت ،حق مہر کے مسائل عدالتوں میں زیر غور رہتے ہیں جس کے دوران ہی اکثر فریقین کے بچے جوان ہوجاتے ہیں اور مقدمہ حل ہونے میں سالوں بیت جاتے ہے ۔عدالت کا مقام او رکردار ، شادی کے بندھن کا محافظ ہونا ہوتا ہے ، نہ کہ غارت گر اور تباہ کرنے والا ۔مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی عدالت کو چاہیے کی وہ فسخ نکاح کا فیصلہ کرتے ہوئےیہ دیکھے کہ اگر عورت بغیر کسی ٹھوس وجوہ کے عدالت آئی ہوئی ہے، تواس پر اخلاقی دباو ڈالے ۔ساتھ ہی سماجی اقدار و روایات کا پاس رکھتے ہوئےمعاشرے کے تباہی ، بچوں کی بعدازاں ذہنی کوفت اور انہیں والدین کے ہوتے ہوئے یتیم ہونے سے بچانے کی بھر پور کوشش کرے ۔عدالت فریقین کو اس بات کا احساس دلائے کہ شادی ایک مقدس فریضہ ہے اور فسخ نکاح ،مسائل کے حل کےلئے اخری حق انتخاب نہیں ہوسکتا ۔قانون معاشرتی بھلائی کیلئے بنایا گیا ہے نہ کہ تباہی و بربادی کیلئے۔ معاشرے میں طلاق کے بڑھتے رجحانات نے عظیم تر اقدار وروایات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شادی شدہ جوڑے اگر صبر تحمل اور سمجھوتے کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے صبر کے اصولوں کی پیروی کر تے ہیں تو ہم دیکھتےہیں کہ ان لوگوں کے جوڑے کامیاب گردانے جاتےہیں۔طلاق کے وقوع پذیر ہوتے ہی خاندان کے تقسیم عمل میں آتی ہیں ، تو ایسے میں بچوں کی پیدائش کی صورت میں ان کا کیا گناہ؟فریقین کی بچوں کی کفالت ،تربیت اور معاشرتی ناہمواری بچوں کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ سب سے زیادہ سنگین سوال ان کی دیکھ بھال،تربیت اور تحویل کا ہے۔ بچے جب بڑھے ہونے لگتے ہیں تومعاملہ اور سنگین ہونے لگتا ہے ۔اس طرح قانونی چارہ جوئی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ میاں بیوی کے درمیان شروع ہوجاتا ہے۔
ہر مسئلےکا ایک نہ ایک حل ضرور ہوتا ہے ہمیں مسئلے کے حل پرغور کرنا چاہیے ۔شادی کے فوراًبعد زوجین کے اصلاح کیلئے پیشہ وارانہ مشورہ لازمی دینا چاہیے۔ پیشہ وارانہ مشورہ دینے کے خاطر ایک ادارہ عمل میں لانا وقت کی اہم ترین اور ناگزیر ضرورت ہے۔جہاں پر فریقین کی تربیت کی جاسکے، اورفریقین کو بتایا جا سکے کہ کس طرح مستقبل میں اپنی قانونی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ فریقین کو چاہیے کہ وہ ایک دوسر ے کو جانے پہچانے اور ایک دوسرے کے پسند و نا پسند کا خیال کریں۔ معمولی کوتاہیوں اور سرزنش پر سمجھوتہ کرنا سیکھ سکیں ۔با الفاظ دیگر زوجین میں نظریہ اور عقائد کی مکمل ہم اہنگی ہونی درکار ہوتی ہے ۔کیونکہ معاہدہ نکاح خونی رشتے تخلیق کرتا ہے ۔فریقین کو چاہئے کہ وہ اپنی بچوں کی خاطر اپنی زندگی پر امن طریقے سے گزار نے کی کوشش کرتے ہوئےایک دوسرے کا عزت اوراحترام کریں ۔مفاہمت ،ترس،درد مندی ،ہمدردی، برداشت،پیارو محبت ،فراخی اورمعافی ہی وہ زریں اصول فراہم کرتی ہیں جس کو بروئے کار لاتے ہوئے شوہر اور بیوی کامیاب شادی شدہ زندگی گزارنے کے ضامن اور لائق ہوسکتے ہیں ۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
936 مناظر