سوات (زمونگ سوات ڈاٹ کام) سوات پرائیویٹ سکولز منجمنٹ ایسو سی ایشن (پی ایس ایم اے ) نے جماعت پنجم کا امتحان سوات بورڈ کے زیر اہتمام لینے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے بچوں کا ڈیٹا جمع کرانے سے انکار کردیا ، صوبائی حکومت نے تعلیمی نظام کو این جی اوز کے حوالے کرکے والدین کو لوٹنے کا منصوبہ بنا لیا ہے ، سوات بورڈ کے چیئرمین اور ان کے ماتحت عملہ نے کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرام کر رکھا ہے ، یکساں نظام تعلیم رائج کرکے تمام تعلیمی اداروں کو پابند بنا یا جا ئے ، ان خیالات کا اظہار سوات پرائیویٹ سکولز منجمنٹ ایسو سی ایشن سوات کے صدر ثواب خان نے سوات پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر جنرل سیکرٹری فضل ستار خان ، محمد ساجد خان ، اختر علی خان ، ظفر شلمانی ، نذیر حسین اور دیگر عہدیدار اور پرنسپل بھی موجود تھے ، انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے قوانین اور ملکی آئین کا احترام کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے سوات بورڈ نے اپنی بادشاہت قائم کرکے حکومتی قوانین اور آئین کو پس پشت ڈال دیا ہے، چیئرمین سوات بورڈ اور ماتحت عملے نے لوٹ مار اور کرپشن کابازار گرم کررکھا ہے ، انہوں نے کہا کہ چیئرمین بورڈ مدت ملازمت ختم ہونے کے باوجود براجمان ہے اور بورڈ کے تمام ملازمین کو دفاتر سے نکال کر سکولوں اور پرنسپل کے گھروں پر چھاپے مارکر بے جاتنگ کررہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ جماعت پنجم کے امتحان کیلئے این جی اوز کی جانب سے سکولوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کیونکہ حکومت نے صوبے کے بچوں کو فی بچہ 666 روپے میں ان این جی اوز پر فروخت کردیا ہے ، انہوں نے بورڈ کو بچوں کا ڈیٹا دینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر سوات بورڈ نے اپنی من مانی ختم نہ کی اور فیصلہ واپس نہ لیا تو ہم سڑکوں پر نکل کر احتجاج پر مجبور ہوں گے اور عدالت سے بھی رجوع کریں گے لیکن کسی بھی صورت بورڈ کے زیر انتظام جماعت پنجم کا امتحان نہیں ہونے دیں گے ، انہوں نے سوات بورڈ میں بدعنوانیوں اور کرپشن کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
1110 مناظر