تحریر:نصیر اللہ خان ایڈوکیٹ
جیل کے آغاز کا پتا لگانے کیلئے ہمیں سٹیٹ کےعروج اور سماجی تنظیم کی ترقی کی باضابطہ شروعات کے رسمی ضابطوں کےمواد سےملتا ہے۔ سب سے مشہور ضابطہ ( کوڈ) 1750ءقبل مسیح میں حمورابی نے بابل میں لکھا تھا ۔ جرم سرزدہونے اورقوانین کی خلاف ورزی کی پاداش میں سزائیں اور ذاتی طوپر ایک دوسرے سے انتقام لینےکے سد باب کیلئے جیل کا نظریہ متعارف کروایا گیا تھا۔
قدیم روم کےبادشاہ اینکس مریکس فورتھ نے640ءقبل مسیح کمیٹئم کےمقام پر میمر ٹائن نامی جیل بنایا تھا ۔رومن جیل کو سزا دینےکے طور پر استعمال کرتے تھے۔ میمر ٹائن جیل میں وافرمقدار میں قیدیوں کو آلودہ پانی اورانسانی فضلہ کے ساتھ گھناؤنےحالات میں گندگی کےڈھیر پرقابل رحم حالت میں رکھا جاتا تھا۔غلاموں کے پاؤں میں زنجریں ڈال دی جاتیں اور ان سے بگھار کا کام بھی لیا جاتا تھا ۔قیدی کو معاشرے سے دور رکھا جاتا اور لوگ اس سے نفرت کرتے تھے ۔
آغاز اسلام کےادوارمیں ’’جیل‘‘ کے تصورکامطلب’’ مجرم قیدی ‘‘کو معاشرے سے بچانے اور اصلاح احوال کیلئے قید کرنا تھا۔ تاکہ مجرم کو علیحدہ جگہ پرر کھاجائے اوراسے اپنی بد عملی کا احساس دلایا جائےتاکہ وہ از خودتوبہ تائب ہو جائے۔ سنہ 633ء میں امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب ؓکے اسلامی دور خلافت میں مملکت میں توسیع کیوجہ سے مختلف جگہوں میں جیل خانے بنائے گئے۔ مکہ مکرمہ میں جیل بنانے کیخاطر ایک گھر کو قیمتاً حاصل کیا گیا تھا۔ تاہم قیدیوں کیساتھ انتہائی مہذب اور انسانی برتاؤ کیا جاتا تھا۔ علاج معالجہ کے لئے ڈاکٹر کی سہولیات دی گئی تھیں۔ قیدیوں کےرشتہ داروں، عزیزواقارب کوملنے جلنے کی اجازت ہوتی تھی اور سب سےاہم یہ کہ قیدیوں کولکھنے،پڑھنے دیاجاتاتھا۔
یہ دنیا کے تاریخ کا سب سے پہلا ’’Reformative ‘‘جیل کا نظام تھا۔
مغرب میں سترہویں (17th) صدی عیسوی کے دوران جیل کی سزائیں نچلے طبقے اور سیاسی مخالفین کو دبانے کے لئے ایک آلہ اور ہتھیار کے طور پر استعمال کی جاتی تھیں۔ سرِ بازار نچلے طبقے اور سیاسی مخالفین کو سزائیں اور پھانسیاں دی جاتی تھیں۔ تاکہ اسطرح عوام الناس پر اپنا رعب جماکر انہیں ایک طرح سےسبق دیا جا سکے۔ لیکن معاشرے کے لوگوں میں نقص امن کے خرابی اور عوامی رد عمل کیوجہ سےسنہ1800ء میں آوارہ گرد ، عادی مجرموں اورباغی غلاموں کوزنجیروں میں جکڑکر سوسائٹی سے الگ رکھنے کےلئے مغرب میں پہلی دفعہ جیل کا تصور سامنے آیا۔ اس یقین کیساتھ کہ قید تنہائی سے مجرم اپنے گناہوں سے توبہ کرلےگا۔ جیل کے نظام میں پہلی دفعہ سنہ1975ء میں جیل اصلاحات کا آغاز ہوا۔
یہ درست ہے کہ دنیامیں سنہ1900ء میں بدلے اور انتقام کے بجائےقیدیوں کی اصلاح اور بحالی کا عمل شروع ہوا۔ اصلاح اور بحالی کے نظریات کے فروغ کیوجہ سے جیل کے اغراض اور مقاصد میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی۔جدید دور کے جیلوں کا مقصد مقامی معاشرے کی مدد سے اصلاح پذیری اور قیدیوں کی کامیاب معاشی بحالی کے لئے اقدامات ہونا ہے۔مغرب سےپہلے جیل کو اصلاح اور بحالی کے ادارے کے طورپرحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں عمل میں لایا گیا تھا، جس پر اب جدید دور میں عمل ہونے لگا ہے۔
جیل کا لفظ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167کے تحت صرف خاص قیدیوں ،جن کی دستاویزی یا دیگر شہادت ہائے اور یا مستغیث کی صحت رپورٹ پر مجرم کا جرم میں ملوث ہونا یقینی طورپر ثابت ہواور جس کا عدالت سے ٹرائل کرنا ضروری ہوتا ہو۔ ایسے قیدی کو دفعہ اکسٹھ 61 ض۔ف کے روحراست میں لے کرپولیس اسٹیشن لاک اَپ میں قید کرکےچوبیس گھنٹوں کے اندر اندر عدالت مجاز میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ ملزم سے تحقیقات اور ریمانڈ کیلئے مجسٹریٹ ( جس کی وجوہ وہ قلم بند کرےگا) سے اجازت لینا درکارہوتاہے ۔سیکشن مذکورہ کےبرخلاف علاوہ بہ اجازت مجسٹریٹ فرسٹ کلاس و بغیر درخواست ریمانڈ،سب انسپکٹر کاقیدی کوحراست میں رکھنا غیر قانونی و غیر آئینی ہوتا ہے۔ مذکورہ غیر قانونی نظر بندی پر پولیس آفیسر کے خلاف سیکشن 220 پاکستان پینل کوڈ کارروائی کی جاتی ہے۔
عورت سے تحقیقات کی مد میں مجسٹریٹ سےدرخواست کے ذریعے اجازت حاصل کرنی ہوتی ہے اور تھانے کے کسی آفیسر یا لیڈی پولیس کے سامنے بیان لیاجاسکتا ہے ۔
پولیس اسٹیشن کی حدود کے اندر لاک اَپ میں قیدیوں کو رکھا جاتا ہے ۔اس سے بھی مذکورہ دفعہ کی نسبت جیل ’’جوڈیشل لاک اَپ ‘‘کا مطلب نکالاجا سکتا ہے ۔ بلکہ اس کا مطلب ہر وہ جگہ (چاہے وہ کوئی بھی جگہ ہسپتال یا عوامی عمارت ہی کیوں نہ ہو) سرکاری حکم نامے پر سپیشل،مرکزی جیل یا سب جیل کہلائی جا سکتی ہے۔
پاکستان پریزنز کوڈ رولز،نوٹیفیکشن کےمطابق تمام جیلیں علاوہ مرکزی جیل یا سپیشل پریزنز، ضلعی پریزنز تصور کی جائیں گی۔
رول 8 (۱) کیمطابق تین قسم کی ضلعی قید خانے جیل تصور ہوں گے۔
1:۔ پانچ سال سے زائد اور دس سال سے کم سزایافتہ عام طور پرپانچ سومجرموں کیلئے پریزن سیل مختص ہوگا۔
2:۔ تین سال تک کے سزا یافتہ قیدی کو عام طور پرتین سو یا پانچ سوسے کم نفری کیلئے رہائشی سیل پریزن کی جگہ مختص کرنی ہوگی۔
3۔ ایک سال تک کےسزایافتہ کو عام طور تین سوسے کم نفری والی جگہوں میں رکھا جائےگا۔
رول 8(2) انسپکٹر جنرل جولائی کے مہینے میں سزا کے تخفیف کی صورت میں یاجوصورت قانون فراہم کرتا ہو، اوسط شمار کیمطابق تعین کریگا۔
رول 9 کے تحت حکومت کوئی بھی جیل، مرکزی جیل یا ضلعی جیل کو مرکزی جیل ہونے کا اعلان کرےگا ۔
بدقسمتی سے پاکستان کے جیلوں کے اندر قیدیوں کی اصلاح، کردار سازی اورمعاشی بحالی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا ۔ قیدیوں کو جانوروں سے بھی بدتر حالات میں رکھا جاتا ہے۔ان میں ہمدردی ، خدا ترسی اور دردمندی کا شائبہ تک موجود نہیں ہوتا۔مشاورت، معاشی بحالی، اصلاح یا کمیونٹی میں ترقی کا کوئی طریقہ اور ٹریننگ فراہم کیا جاتا ہےاور نہ ہی باقاعدہ فرسٹ میڈیکل ایڈ اورمیڈیکل چیک اَپ ہی کیا جاتاہے۔ ایسے حالات میں زیادہ ترقیدی انتقام اور بدلے کی وجہ سےجرم کی زندگی سے واپسی اختیار نہیں کرنا چاہتے بلکہ یہ ایک حقیقت ہےکہ یہی قیدی سماج کیلئےدوہرا خطرہ بن جاتا ہے۔
قیدیوں کےنا گفتہ بہ حالات، ہجوم ،پیشہ ور مجرمان، دہشت گرد اور چھوٹے موٹے جرائم کے عادی قیدی، منشیات کے عادی اور عسکریت پسند قیدیوں کے درمیان جیلوں کے اندر علیحدہ سیلز کی کمی جرائم بڑھنےکاسب سے بڑا سبب ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سنگین جرائم اور حتی کہ معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث قیدیوں کی زیادہ تناسب دوبارہ سہ بارہ سنگین جرائم کا ارتکاب کرکے عادی اور پیشہ ور مجرم بن جاتے ہے۔
یہ ایسےغیرانسانی اورغیرقانونی روئیےہیں جن کی وجہ سے اعلٰی سیاسی رہنماؤں سمیت عدالتیں، جیل حکام اور بہت سے عام لوگ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ قیدیوں کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہے۔ ان پر رحم، اعتماد اور ترس نہیں کیا جاسکتا۔درحقیقت قیدی بھی انسان ہی ہوتے ہیں ۔سزا یافتہ اور قصور وار ہونے کےبعد بھی ان کے انسانی اور قانونی حقوق کو پامال نہیں کیا جاسکتا۔ انسانی حقوق کا مطلب یہ ہے کہ چاہے وہ ایک قیدی ہی کیوں نہ ہواس کی انسانی عظمت برقرار رہتی ہے۔جرائم سے قطع نظر جو اس سے سرزد ہوئےہوں، ہر قسم کی صورتحال میں انسانی وقار واجب التکریم ہوتی ہے۔بوجوہ انسان ہونے ،اس کے حقوق کو اس سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتااور جب قیدی سزا پورا کرچکا ہوتا ہے ،تو اس صورت میں اس کے گناہ یاد دلانا، اس سے نفرت کرنا اور حقارت سے دیکھنا ،کہاں کا انصاف اور عقلمندی ہوتی ہے ۔
ہمارے مروجہ نظام میں جیسے ہی پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا، چاکیدگی پرچہ’’ایف ائی آر‘‘ سے لےکراس وقت تک جب اس کوحراست میں لیاجاتاہے اور عدالت نے قید کرکے سزا سنائی ہے۔ بے چارے قیدی کو بد اخلاق ،بدنام زمانہ ، کرپٹ اور بے ایمان آدمی ہونے کا الزام لگاکر ذلیل کیا جاتا ہے ۔ قیدی کی معاشرے، پولیس یا عدالت سے ہمدردی اور رحم کی تمام ترتوقعات دم توڑدیتی ہیں۔حتی کہ عدالتیں بھی اس شخص کو گری نظر سے دیکھتی ہے۔یہ نظریہ ہمیں یہ یقین اور باور کراتا ہے کہ قیدی کا کوئی انسانی تشخص اور وقارباقی ہے اور نہ اسے ایک آزاد شخص کے باوصف انسانی اور آئینی حقوق حاصل ہیں۔
یہ درست ہے کہ قیدی مختلف جرائم کے نتیجے میں عدالت کے حکم پر جیل بھیج دیئےجاتے ہیں۔ایسے ملزم بھی ہوتے ہیں جو ناکردہ گناہ کی سزا بگھتتے ہے۔ اس کے علاوہ عورتیں،بوڑھے اور بچے بھی مختلف جرائم کی وجہ سے جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں اٹھاتے ہیں ۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جیل کی حالت انتہائی خراب ہوتی ہے۔ گرمی، سردی ، درجۂ حرارت اورتازہ ہوا کےلئےروشن دان اورنکاسٔی آب وغیرہ کا کوئی بہترانتظام نہیں ہوتا ۔ جیل میں قیدیوں کی بھیڑ لگی ہوتی ہے۔ یعنی مجرموں کی انتہائی زیادہ تعداد کی وجہ سے جیل میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی ۔ اس پر طرہ یہ کہ قیدیوں کیساتھ جیل انتظامیہ جانوروں سے بد تر سلوک روا رکھتی ہیں۔ مہینے بھر کیلئے غیر قانونی طورپرانہیں قید تنہائی میں بھیج دیا جاتا ہے ۔ پاؤں اور ہاتھوں میں بیڑیاں ڈال کر ’’چکی‘‘ میں قید کرتے ہیں۔چکی کی تنگ و تاریک کوٹڑی میں دس اور بیس آدمیوں کو انتہائی ہتک امیز طریقے سے پھینک دیا جاتا ہے ۔ اس حالت میں سونے اور جاگنے دونوں وبال جان ہوتاہے ۔اس تنگ کمرے میں کھانا کھاتے اور پلیٹیں دھوتے ہیں ،تین فٹ دیوار کاپلش سسٹم ، دوسرے قیدیوں کے سامنے انسانی فضلہ کی بدبواور حیا کا باقی نہ رہنا ، کیا واقعی قیدی کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہوتے ؟ کیا ہمارا دین قیدیوں کیساتھ ایسا سلوک اور برتاؤ رکھنے کی اجازت دیتا ہے ؟
جیل میں قیدیوں کو اس لئے رکھا جاتا ہے کہ مجرم دوبارہ وہی غلطی نہ کرے اور اس کی کسی طرح اصلاح ممکن ہوجائے،لیکن جیل میں قیدی کی کوئی اصلاح نہیں کی جاتی ۔ الٹاوہاں قیدی پر عذاب اور اذیت کےنت نئے طریقے آزمائے جاتے ہیں۔
پھرقیدی جب سزا پوری کرکے کسی طرح باہر آ جاتا ہے، تو وہ پیشہ ور ملزم بن چکاہوتا ہے۔ جس معمولی جرم میں ملزم پکڑا جاتا ہے اس سےدُگنا جرم اس کے سر تھوپ دیا جاتا ہےاور حال یہ ہے کہ بعض اوقات ایک عام ملزم عادی اورپیشہ ور مجرم بن جاتا ہے۔ اب یہاں سوالات اٹھتےہیں کہ ایک معمولی مجرم کیونکر پیشہ مجرم بن جاتا ہے؟ جیل انتظامیہ کو کس طرح ٹھیک کیا جا سکتاہے اور کس طرح قیدیوں کے حالت زارپر ترس کھا کر جیل انتظامیہ کو جدید بنیادوں پر ٹھیک کیا جاسکتا ہیں ؟ان سوالات پر غور ضروری ہے۔
مروجہ جیل سسٹم میں ترس اور دردمندی کے احساسات نا پید ہوچکے ہیں ۔ حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں جیل کا نظام اپنی اصلی اور جدید حالت میں آچکا تھا۔ جیل میں قیدیوں کےساتھ انسا نیت کا سلوک روا رکھا جاتا تھا ۔ جیل اس لئے بنائے گئے تھے کہ وہاں پر مجرم کی اصلاح ممکن ہوسکے۔ان کو مختلف قسم کی سکل اور ٹریننگز دی جاتیں ۔ کم از کم ان سے مسلمان بچوں کو پڑھانے کا کام لیا جاتا تھا ۔اس طرح اس کی سزا میں تخفیف کی جاتی تھی۔
پاکستان میں جیلوں کی انتہائی ابتر صورتحال مزید گھمبیر ہوچکی ہے ۔ برٹش راج کے دورکےنظام کو مدنظر رکھتے ہوئے جیل بنائے گئےتھے ۔پاکستان کی آزادی سےلیکرعلاوہ قریباًایک دو جیلوں کے مزید جیل بھی نہیں بنائے گئے ہیں ۔ جیلوں میں مجرموں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک اسکا شاہد ہیں کہ اس میں مجرم کی اصلاح نا ممکن دکھائی دیتی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مجرم جو اس معاشرے میں پلا بڑھا ہو ، یہی نا انصافی ، بد اعتمادی اس کو اور زیادہ مجرم نہیں بنائی گی تو اور کیا ہوگا ؟کیا اس ہجوم سے کسی فائدے کا کام نہیں لیا جاسکتا؟ تاکہ اس ملک کی بھلائی کا کوئی سامان ہوسکےاور خود مجرم کی حالت زار بھی تبدیل ہوسکے؟پاکستانی حکمرانوں کو کچھ خوفِ خدا نہیں ہے۔لوگوں کو صحت ، تعلیم ، روزگار ، روٹی کپڑا ، مکان میسر ہے اور نہ ہی امن ، فلاح ،اصلاح ،انصاف اور سکون۔
قتل ، دہشت پسندی ، فرقہ واریت،خودکش دھماکوں نے پر امن شہریوں کا جینا حرام کردیا ہے۔ روزی روٹی اور حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ ، اختیارات کے ناجائز استعمال ، کرپشن ،اور اقربا پروری کا بازارگرم ہے ۔
سامراج برٹش راج نے جیل اور اس کا نظام دو صدی پہلے دو تین کروڑ لوگوں کیلئے وضع کیا تھا۔ آج حال یہ ہے کہ ملک کی کی آبادی بیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کےلئے وہی خستہ حال جیلیں اور وہی پسماندہ نظام کارآمد ہوسکتا ہے۔ کیا یہ جنگل کا قانون ہے ؟ کیا قیدی انسان نہیں ہوتے ؟کیا یہ مذکورہ جیلیں اس ہجوم کیلئے کافی ہیں ؟ کوئی سوال نہیں کرے گا،کوئی جواب نہیں دےگا ۔ کیاخاموشی ہی اس کا بہتر علاج ہے؟
ریاست کا کام سنگین مسائل کو پہلے درجے پر رکھنایعنی جنگی بنیادوں پر حل کرنا ہوتاہے ۔اگر مذکورہ مسائل حل نہیں ہوتے ،تو اس صورت چاہے آپ توانائی کا مسئلہ حل کر لیں ،نئی سڑکیں بنا لیں ، موٹر ویز بنالیں، ٹرین اور بس سروسزاشروع کرلیں، ڈیم بنوا ئیں یاانڈسٹری لگائیں ۔لگتا ہے یہ سب ہوتے ہوئے بھی لوگوں کو روزگار میسر نہیں ہوگا ۔ دہشت گردی ،فرقہ واریت ، لوٹ کھسوٹ ،قتل عام اور اقربا پروری کس طرح ختم ہوگی؟کیاکسی کے پاس کوئی جواب ہے؟
کیا پولیس پراگرس رپورٹ کرنے پر معاشرے میں کرائم ریٹ نہیں بڑھ رہا ؟ کیا جیل میں جرائم کے لحاظ سے علیحدہ محکمے، علیحدہ بارکیں اور معمولی نوعیت کے مجرم کیلئے اسپیشل جیل بنانا وقت کا تقاضا نہیں ہے ؟کیاچکی،مونڈا خانہ ،لنگر خانہ ، کوٹ گشت ، پھانسی گاٹ ،کوٹ موقہ، چکر،جیل بابا ،پوچی ، اور قصوری چکی جیل سسٹم کے سامراج کے مرتب کردہ نظام میں تبدیلی ضروری نہیں؟
ارباب حکومت اور اعلی حکام سے گزارش ہے کہ فی الفور درج ذیل اقدامات کرتے ہوئے لوگوں، خاص کرقیدیوں کی حالت زارپررحم فرمایا جائے۔ ورنہ دوسری صورت میں اگر یہ ملک دوسری شعبوں میں لاکھ ترقی کرلے، لیکن یہاں مثالی امن اور آصلاحات نا ممکنات میں سےہوں گے۔ مذکورہ جیل کا نظام جرائم کے یونیورسٹیز اور کارخانے ہے۔ جہاں مفت میں پیشہ ور مجرموں کی سرکردگی اور سرپرستی میں مجرم بنائے جاتے ہیں ۔اس لئے میری نظر میں ان امور پر عمل پیرا ہونا انتہائی لازمی امر ہے۔گزارشات ذیل عرض ہیں۔
۱:۔ معمولی جرائم میں ملوث مجرموں کی اصلاح کی خاطر ادارے بنائے جائیں۔ ان پر بنائے گئے مقدموں کو جلد از جلد سرکار اور بار کونسل کے توسط سے نمٹایا جائے ۔
۲:۔ پھانسی کےمجرموں کی سزاؤں پرعمل درآمدکرکےقیدیوں پررحم کیا جائے۔دس اور بیس سالوں سے پھانسی کی سزا کے منتظر قیدیوں کی سزا میں تخفیف کی جائے یا جیسا قانون اجازت دیں فوری طور منصفانہ فیصلے کئے جائیں۔
۳:۔ معمولی نوعیت کے جرائم کیلئے ،نشئی مجرموں کے بحالی ہسپتال یا دیگر ادارے، سب جیل کے طور پر مقرر کئے جائیں۔
۴:۔ قیدیوں کی اصلاح کی خاطر عوامی قیادت کو بروئے کا لاتے ہوئے ورکشاپس اور سیمنارز منعقد کئے جائیں۔
۵:۔ ضلع میں آبادی اورمختلف علاقوں میں سالانہ جرائم کے تناسب کی غرض سے دو مرکزی اور سب جیلیں بنائے جائیں۔
۶:۔ پریزن کوڈ اور رولز میں فوری طورترمیم کرکے قانون سازی کی جائے۔اعلی حکام،جیل انتظامیہ اور انسپکٹر جنرل کے توسط سے پریزن کوڈ رولز پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے ۔
۷:۔ معمولی نوعیت کے مقدموں کی سماعت کیلئے الگ عدالتیں اور قانون سازی کرکےجیل میں قیدسزا یافتہ مجرموں کے لئےقانون اورسرزدہ جرائم کے مطابق سیلزاوربارکیں بنائی جائیں۔اور اچھے کردار،چال چلن کے حامل قیدیوں کو رہا کیا جائے۔اور اُن کے ساتھ نرمی کا برتاو کیا جائے ۔
۸:۔ معمولی نوعیت کے جرائم میں نامزد قیدیوں کےلئے تعداد کے لحاظ سےعلیحدہ جیلیں اور بارکیں بنائی جائیں۔
۹:۔قیدیوں کے صحت اور فٹنس کیلئے ورزش اور گراونڈ کا بندوبست کرنا اور وسائل کے اعتبار سے ہر قیدی کےلئے بین الاقوامی قوانین اور انتظام کےمطابق جیل پریزن میں کمرے بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
۱۰:۔باصلاحیت اور ہنر مند قیدیوں کیلئے ادارے عمل میں لانا اور باقاعدہ طور اس کو کام اور ہنر مندی کی اجرت ادا کرنا ،لکھائی پڑھائی کیلئے کلاسز کا انعقاد ،بشمول قرآن پاک کوترجمے کےساتھ پڑھانا ، یاد کروانا اور غیر مسلم افراد کو ان کے مذہبی صحائف پڑھانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔
۱۱:۔مونڈا خانوں میں معمولی جرائم ، نو عمر لڑکوں اور قیدی عورتوں کے لئے علیحدہ سیلز بنائے جائیں۔
۱۲:۔نکاسٔی آب، وینٹی لیشن، مناسب درجۂ حرارت ، پینے کے صاف پانی، بارکوں اور سیلز میں باپردہ علیحدہ لیٹر ین ، واش رومز،صفائی ستھرائی ، لنگر خانہ وغیرہ کے امور اور سروسزکےلئے سرکاری طور انتظام کروایا جائے۔
۱۳:۔قیدیوں کو ریگولر تعلیم دینےکےلئے کلاسز بنائی جائے اور ہائر تعلیم کے شوقین قیدیوں کیلئے امتحانات کا بندوبست کروایاجائے ۔
۱۴:۔عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کےلئے ان کےجرائم کے مناسبت سے جداگانہ بارک ، جیل اور سب جیل مقرر کیا جائے۔
۱۵:۔قید با مشقت کی اجرت دینا اور ضرورت مند مسکین قیدیوں کیلئے دیت، ارش ، د مان کی رقم کا بندوبست حکومتی سطح پر کروائے جائے۔
۱۶:۔سیشن جج اور دوسرے حکومتی نمائندگان کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے۔ ہر دو ہفتوں میں جیل کا معائنہ کیا جائے۔ قیدیوں کے مسائل سننا اور بہترین اخلاق کے حامل قیدیوں کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے مستحق اور معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کو پروبیشن اور پےرول پر رہاکرنا چاہئے۔
۱۷:۔وفاقی اور صوبائی سطح پر میگا انڈسٹریز بنائی جائیں ۔ رضاکارانہ طور پرجو پروڈکٹ ،کام اور ہنر درکار ہو،اس میں قیدیو ں سے کام لیا جائے ۔اس کو مارکیٹ میں نہیں بلکہ سرکاری محکموں اور سرکاری عمال کے زیر استعمال لاکر قیدیوں کو معاوضہ اور حکومت کو بچت دیا جائے۔
آخر میں عرضی کے طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ خد ارا،درج نکات کے علاوہ ہزاروں قسم کے دیگر مسائل موجود ہیں ۔ان کو جنگی بنیادوں پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ان اصلاحات کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ قیدی کو آخر معاشرے کا فرد ہوتے ہوئے دوبارہ یہاں آنا ہوتا ہے ۔اس لئے اگر اس کےساتھ غیر انسانی روئیے رکھے گئے ،تو یہ ناممکن ہے کہ اسے سیدھی راہ پر چلنےکی تلقین کی جاسکے گی۔
دوسری بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ جو قیدی جیل سے رہاہوچکا ہو، اس کے بعد از رہائی زندگی میں خاص تبدیلی اس وجہ سے بھی نہیں آتی کہ اس کے پاس جیب خرچ ، کاروبار اور روزگار کیلئے دیگر وسائل نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سےاکثر اوقات وہ دوبارہ جرائم کرنے لگتا ہے۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
606 مناظر