تحریر: شیرنواب کالامی

کوہستان سوات کے نام پر ایک ضلع بننے جارہاہے جوکہ وقت کی ضرورت ہے، آج کل ہمارے کچھ دوست اس ضلع کی بننے کی مخالفت میں دن رات مصروف نظر آتے ہیں۔کیونکہ ان کو پتہ ہیں کہ کوہستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے کوہستان میں کسی چیز کی کمی نہیں اگر الگ ضلع بنایا گیا تو کوہستان کی محرومیاں ایک سال کے ندر ا ندر اپنے انجام کو پہنچ جائے گی . اور تمام مسائل ختم ہونے کے بھی واضح امکانات نظر آتے ہیں ، کوہستان کی شناخت کے علاوہ کوہستان کے پاس اپنے جنگلات ہیں ان میں سے 40فیصد ریونیو کے مد میں دیے جاتے ہے۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کالام کے قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا کی سیاحوں کامحور ومرکز کی و جہ سے سوا ت کی پہچان ہے. ہم کروڈوں روپے ریوینیو کو دے رہے ہیں ہمارے پاس دنیا کی تمام نعمتیں موجود ہیں جو اللہ کی طرف سے عطا کی گئی ہیں۔۔۔زرا سوچھے کہ جو ہم دے رہے ہیں اسکا صلہ ہمیں کیا مل رہا ہیں۔کیا سوات کوہستان کے باسیوں کا حق نہیں کہ انکو بنیادی حقوق ملے وہی حق جو اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے غریب وبیروزگار عوام اور ان کے بچوں کا حق ہیں۔
بحرین سے لیکر گجر گبرال تک اور مٹلتان مہوڈنڈ تک رہنے والے تباہ حال صورتحال اور کسمپرسی کی بڑی وجہ روڈ، تعلیم اور صحت کے مراکز کی عدم دستیابی ہیں،آئے روزشور وغوبل مچانے والے چیخ رہے ہیں مگر ان چند دوستوں نے کبھی اس پر سوچ وتوجہ نہیں دیا کیا روڈ ہسپتال سکول ہمارا بنیادی حق نہیں کیاہمارے مائیں بہنیں اس کے حق دار نہیں ہمیں تو ایک سو کلومیٹر دور صرف معمولی ڈیلیوری کے لیے آنا پڑتا ہے کتنے بہنیں اس روڈ کی وجہ سے بحرین پہنچتے پہنچتے مرتی رہی ہیں،کیا آج تک ہمارے لیے کسی نے آواز اٹھائی ہے ؟کس نے ہمارے دل جوئی کی ہے بغیر اپنی سیاست چمکانے کے، کیونکہ ہماری تمام تر محرومی میں ہی انکی خیر ہے. وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ کوہستان کی محرومیاں دور ہوجائے. پہاڑ, جنگلات اورمعدنیات سمیت دنیا کے تمام نعمتیں موجود ہیں، قدرت یہاں پر زندگی گزارنے والوں پر کتنا مہربان ہے .ہم اسکا اندازہ ان نعمتوں سے لگاسکتے ہیں ، پاکستان کے حکمرانوں کی سوتیلی ماں جیسی سلوک کی گواہی یہاں کے کنڈر نما روڈ ، سکول اور ہسپتالوں سے بخوبی لگایاجاسکتاہے. اب وقت آگیا ہے کہُ اٹھ کر اس سامراج اور کرپٹ عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا ورنہ ہم کب تک قربانیاں دینگے نہ روڈ نہ ہسپتال نہ سکول نہ بجلی نہ پینے کاصاف پانی پھر بھی دل ہے پاکستانی، کب تک ایسا چلے گا ؟ہم کب تک خاموش تماشائی رہیں گے ؟کوہستان کی محرومی دور کرنے کے لیے کوہستان سوات کے نام سے ضلع بننا وقت کی ضرورت ہے. اگر آج بھی ہم چھپ رہے تو تاریخ ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔۔دوستوں ہمیں ہمارا حق ملنا چاہئیے اپر سے بنے یا لوئیر سے ہمیں اپنے بنیادی حقوق ملنے چاہیں ۔
لاکھوں سیاح اس بات کے ثبوت ہیں کہ کالام سیاحوں کی جنت ہے، اس حسین وادی کی کب تک اس مسائل کوبھگتیں گے، ہمارے صوبائی حکومت کو سوچنا چاہیے ، مری پنجاب کے صوبے میں ہے. اسکی سڑکیں دیکھ لو اور کالام کی سڑکیں دیکھ لو! آرے حکمرانوں شرم تم کومگرنہیں آتی۔۔۔کالام کوہستان کے ماتے پر جھومر کی حثیت رکھتا ہے. اگر بروقت اس جھومر کی حفاظت نہ کی گئی اور کالام کی عوام اسی طرح خواب غفلت میں رہیں توان کے خطرناک نتائج مرتب ہوں گے۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
1146 مناظر