پاناما پیپرز،حکمران خاندان کے بعد باقی436پاکستانی اہم شخصیات کا نمبر بھی آگیا




اسلام آباد (زمونگ سوات ڈاٹ کام) جماعتِ اسلامی پاکستان نے پانامہ پیپرز کیس میں حکمران خاندان کے مقدمہ کے فیصلے کے بعد دیگر 436 افراد کے خلاف کیس کی جلد سماعت کے لیے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی ہے۔ درخواست امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی طرف سے سپریم کورٹ کے وکیل محمد اشتیاق احمد راجہ کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ دستوری درخواست نمبر 28 / 2016ء سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے۔درخواست گزار نے ملک سے کرپشن کے خاتمہ اور عوام کے پیسے کو محفوظ بنانے کے لیے دستوری درخواست دائر کی تھی جس میں حکمران خاندان کے علاوہ باقی ماندہ افراد کی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے فیصلہ کرنا باقی ہے اور اگر ان کے خلاف کیس کی سماعت نہیں کی جاتی تو عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس نہیں آسکے گا اور ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکے گا۔ یہ استدعا کی گئی ہے کہ درخواست منظور کرتے ہوئے مذکورہ دستوری درخواست کو 8 نومبر 2017ء کی تاریخ سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔ یاد رہے کہ مؤرخہ24جنوری 2017سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے سب کے احتساب کے حوالہ سے درخواست کو الگ کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھجوا دی تھی اور کہا تھا کہ پہلے حکمران خاندان کے کیس کا فیصلہ کیا جائے گا۔مؤرخہ 28جولائی 2017حکمران خاندان کے حوالہ سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا جبکہ پانامہ فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں 15ستمبر کو خارج ہو گئی تھیں۔رخواست گزار مسلسل اپنے مؤقف کو دہراتے رہے ہیں کہ حکمران خاندان کے بعد باقی سب کا بھی احتساب ہونا چاہیے اور اس حوالہ سے اپنے بیا نات میں متعد د بار سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ سب کے احتساب کے حوالہ سے باقی ماندہ افراد کا مقدمہ سماعت کے لیے لگا یا جائے۔آج جماعت اسلامی نے باقاعدہ متفرق درخواست کے ذریعے کیس کی سماعت کی درخواست سپریم کورٹ میں داخل کر دی ہے اور اگر درخواست منظور ہوتی ہے تودرخواست گزار کی طرف سے8نومبر 2017تاریخ سماعت تجویز کی گئی ہے۔ریں اثناء سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سینیٹر سراج الحق کی طرف سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 292، 293 اور 294 اور ضابطہ فوجداری کے جدول دوم میں پیش کردہ ترامیم منظور کرلی ہیں۔ یہ ترامیم فحاشی پر مبنی مواد کی خرید و فروخت، تیاری، درآمد برآمد اور تقسیم وغیرہ سے متعلق سزاؤں میں اضافے سے متعلق ہیں۔ اس سے قبل مذکورہ دفعات کے تحت سزاؤں کا اطلاق 20 سال تک کی عمر کے افراد پر ہوتا تھا،لیکن اب یہ سزائیں تمام عمر کے افراد پر لاگو ہونگی۔ ان ترمیمات کے ذریعے اگر کوئی شخص کسی بھی عمر کے فرد کو فحش مواد فروخت کرتا ہے یا بھیجتا ہے یا معاونت کرتا ہے اور جرم ثابت ہوجاتا ہے تو اُس کے لیے بالترتیب مذکورہ بالا تینوں دفعات میں تین سال قید، دو لاکھ جرمانہ؛ دو سال قید، ایک لاکھ جرمانہ؛ ایک سال قید، ایک لاکھ جرمانہ کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
18 مناظر