کرکٹ کی تاریخ کا بدترین آؤٹ 10 سال بعد حقیقت سامنے آگئی




اسلام آباد(زمونگ سوات ڈاٹ کام)کرکٹ کی تاریخ میں ایمپائرز کی جانب سے کئی متنازع فیصلے زیر بحث رہے ہیں مگر ایک ایسا آئوٹ کا فیصلہ بھی ہے جسے کرکٹ کی تاریخ کا بدترین آئوٹ قرار دیا جاتا ہے۔ 2007میں کائونٹی میچ کے دوران امپائرز کے فیصلے نے جہاں میچ دیکھنے والوں کو حیران کر دیا بلکہ دنیائے کرکٹ بھی سکتے میں آگئی تھی۔ اس میچ میں پاکستانی بائولر محمد اکرمکائونٹی سرے کی نمائندگی کر رہے تھے اور میچ بریڈفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم کے ساتھ کھیلا جا رہا تھا۔ محمد اکرم کی گیند پر بیٹسمین کا بیٹ گیند سے خاصی دور ہونے اوربغیر کسی اپیل کے امپائر نے کاٹ بی ہائنڈ کا فیصلہ دیا تھا۔ آج 10سال بعد اس آئوٹ کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو اس کی کہانی سناتے ہوئے پاکستانی بائولر محمد اکرم نے بتایا کہ میرے اس اوور میں دو زوردار اپیلز ہوئیں جنھیں انھوں نے مسترد کر دیا مگر اس سے وہ دباؤ میں آ گئے، پھر جب میں نے ایک اور گیند کی تو وہ بیٹسمین سے خاصی دور سے وکٹ کیپر کے گلوز میں چلی گئی، مجھ سمیت کسی کھلاڑی نے کوئی باقاعدہ اپیل نہیں کی البتہ سلپ فیلڈر نے ہلکا سا ہاتھ اوپر کیا،دباؤ کے شکار امپائر نے اس پر گھبرا کر انگلی بلند کر دی حالانکہ وہ ایک فیصد بھی آؤٹ نہیں تھا‘‘۔محمد اکرم نے کہا کہ ’’میں تو اگلی گیند کرنے کیلیے واپس بھی جانے کا سوچ رہا تھا، لیکن حیران کن طور پر بیٹسمین نے بھی کوئی اعتراض کیے بغیر پویلین کی راہ لی ، ہماری ٹیم کو تو وکٹ درکار تھی جو جیسے بھی ملی ہم نے تو خوشیاں منائیں، جب پویلین واپس گئے تو ریکارڈنگ دیکھ کر سب کھلاڑی قہقہے لگاتے رہے کہ امپائر نے کیسا فیصلہ دیا‘‘۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
77 مناظر