سابق وزیراعظم نوازشریف ہی مسلم لیگ ن کے صدر رہیں گے،قومی اسمبلی کا فیصلہ




اسلام آباد(زمونگ سوات ڈاٹ کام ): مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف پارٹی کے سربراہ رہیں گے،قومی اسمبلی نے پیپلزپارٹی کانااہل شخص کوپارٹی صدرنہ بنانے کابل مسترد کردیا، ایوان میں 163ارکان نے اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت میں ووٹ دے دیا،تاہم ظفراللہ جمالی نے حکومت کے خلاف ووٹ دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر سردارایازصادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کااجلاس ہوا۔

جس میں پیپلزپارٹی نے الیکشن ترمیمی بل 2017ء قومی اسمبلی میں پیش کیا۔بل پرایوان میں رائے شماری کروائی گئی ۔حکومتی اور اتحادی ارکان کی اکثریت نے بل مسترد کردیا۔ پیپلزپارٹی کے بل کے مطابق انتخابی قانون تبدیل کیاجائے۔انتخابات ایکٹ میں ترمیم کابل نوید قمرنے پیش کیا۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بل پیش کیاہے۔امید ہے بل پاس ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ بل آج پاس نہ ہوا تومشترکہ اجلاس میں بھی جاسکتا ہے۔ ترمیمی بل کے مطابق نااہل شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا۔آئین میں مرضی کی ترمیم کی گئی جس سے ملکی نظام خراب ہوا۔ہمیں اداروں کا احترام کرنا چاہیے۔ اگرنااہل شخص پارٹی کی صدارت کرے گاتویہ آرٹیکل 62،63 کی خلاف ورزی ہوگی۔نوید قمر نے کہا کہ ایوان میں اتنی حاضری ساڑھے چارسال میں نہیں دیکھی۔چارسال میں اتنی حاضری ہوتی توآج ترمیم پیش کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ارکان کی موجودگی ہی ایوان کا کرداربلند کرتی ہے۔ ایوان کی عزت رواناسب سے پہلے قائد ایوان کا کام ہے۔ایوان میں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہاکہ یہ بل مشترکہ اپوزیشن کاہے۔ جوشخص صادق اور امین نہیں وہ رکن پارلیمنٹ بھی نہیں بن سکتا۔الگ الگ شخصیات کیلئے الگ الگ معیار نہیں ہوسکتا۔لیکن شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم کی پالیسیوں پرگامزان ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت معاملے پرگھبراکیوں رہی ہے؟حکومتی ارکان اپنانقطہ نظرپیش کریں لیکن ہمیں بھی سنیں۔انہوں نے کہاکہ سینیٹ سے بل پاس ہونے پرتصادم ہوگیا۔اس تصادم کی فضا کوختم کرنے کیلئے آج پھربل پیش کیاگیاہے۔آئین میں نااہل شخص کے پارٹی صدرنہ بننے پرپابندی میں منطق تھی۔انہوں نے کہاکہ تصادم سے ادارے مضبوط نہیں ہوتے۔ محاذآرائی کی راہ اختیارکرکے حکومت جمہوریت کی خدمت نہیں کرسکتی۔آج ن لیگ کی صفوں میں مشرف کے بہت سے چاہنے والے لوگ شامل ہیں۔وزیرقانون زاہد حامد نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ آئین میں نااہلی کی شق پرویز مشرف نے 2000ء میں شامل کی کیونکہ وہ نوازشریف اور بے نظیربھٹو کو سیاست سے باہررکھنا چاہتے تھے۔انہوں نے کہاکہ یہ ترمیم کسی فرد واحد کیلئے نہیں۔2014ء میں انتخابی اصلاحات کی سب کمیٹی بنائی۔ پاناما آنے سے ڈیڑھ سال پہلے سب کمیٹی نے نااہلی کی شق نکالنے کافیصلہ کیاتب کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ہم نے سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظورکروایاہے۔انہوں نے ماضی کویاد دلایا کہ بھٹودور میں پیپلزپارٹی نے 1975ء میں اس شق کوآئین سے نکال دیاتھا۔کیونکہ ایوب خان نے 1962ء میں پولیٹیکل پارٹیزایکٹ نافذ کیا۔بھٹو کی آئین سے نکالی گئی شق 25سال تک آئین میں شامل نہیں کی گئیں۔اسی طرح 2000ء میں مشرف نے دوبارہ اس شق کوشامل کردیا۔ وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ چلانے یاڈرانے دھمکانے سے تاریخ کونہیں بدلاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ یہ کہانی 17نومبر2014ء کوشروع ہوئی تھی جب پاناما کادور دور تک کوئی علم نہیں تھا۔قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی ،پھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں گیا ۔آمرانہ دورکی جمہوری ترامیم ختم کرناچاہتے ہیں۔آئین میں تجاوزات کھڑی کی گئی ہیں۔ذوالفقار بھٹونے آئین سے یہ تجاوزات ہٹائی تھیں۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چند لوگوں کو21کروڑ لوگوں کی قسمت کافیصلہ نہیں کرنے دیں گے۔یہ جنگ پیپلزپارٹی ، ایم کیوایم ،جماعت اسلامی نے بھی لڑی ہے۔قیادت کافیصلہ چند لوگ نہیں بلکہ کارکن کریں گے۔ چند لوگوں کافیصلہ نہیں مانیں گے۔چند لوگوں کوعوام کی قسمت کے فیصلے کاحق نہیں دیں گے۔ پاکستان میں جمہوریت کی جنگ جاری ہے پاکستان آگے نہیں بڑھ رہا۔ہماری کسی سے جنگ نہیں لیکن شکوہ ضرور ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نہیں چاہتے سیاست سے کوئی مائنس ہو۔جب کسی لیڈرکوسیاست سے مائنس کیاجاتاہے پھرجمہوریت مائنس ہوتی ہے۔یہ مائنس کی کاروائیوں کاپارلیمنٹ کوملکرمقابلہ کرناہوگا۔



ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
63 مناظر