پنجاب بھر میں کشیدہ حالات، صوبہ رینجرز کے حوالے




اسلام آباد (زمونگ سوات ڈاٹ کام) فیض آباد میں تحریک لبیک کے مظاہرین کے خلاف آج صبح ہونے والے آپریشن کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے مظاہرے اور احتجاج کیے جا رہے ہیں۔ پنجا ب اسمبلی کے باہر بھی پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا۔ صوبے بھر میں کشیدہ حالات کے پیش نظر رینجرز کو طلب کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رینجرز کی چار کمپنیوں کو طلب کیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے رینجرز کی طلبی کے لیے محکمہ داخلہ سے بھی رابطہ کر لیا ہے جس کے بعد رینجرز کو صوبے بھر میں تعینات کر دیا جائے گا، واضح رہے کہ فیض آباد میں جاری تحریک لبیک کے دھرنے کے خلاف ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد آپریشن کا آغاز کیا گیا، ،مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ اور غلیل کے ذریعے بنٹوں کے استعمال سے ایک پولیس اہلکار شہید 16 رینجراہلکاروں اور 14 شہریوں سمیت متعدد پولیس ا ہلکار زخمی ہو گئے، درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہفتہ کو سلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کی آخری ڈیڈلائن بھی ختم ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے آپریشن شروع کردیا جس کے نتیجے میں مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان شدیدجھڑپیں ہوئیں اور علاقہ میدان جنگ بن گیا۔آپریشن میں پولیس، ایف سی اور رینجرز کی بھاری نفری نے حصہ لیا، جنہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔شدید شیلنگ کے بعد مظاہرین منتشر ہونا شروع ہوگئے جبکہ پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا۔اطلاعات کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پتھرا اور غلیل کے ذریعے بنٹوں کا بھی استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید متعدد ا زخمی ہوگئے۔مظاہرین نے ایک ایف سی اہلکار کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا لیکن ساتھی اہلکاروں نے اسے فوری طور پر مظاہرین کے قبضے سے چھڑا لیا۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف اسپتالوں میں54 زخمیوں کو لایا گیا، جن میں پولیس اور رینجرز کے 16 اہلکار بھی شامل ہیں۔ترجمان پمز کے مطابق اسپتال میں 46 زخمیوں کو لایا گیا، جن میں سے 7 آنسو گیس سے متاثر تھے۔دوسری جانب پولی کلینک اور بینظیر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے چھٹی پر موجود پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹرز کو طلب کرلیا گیا۔دھرنے کے مقام پر ایمبولینسز بھی پہنچا دی گئیں جبکہ آپریشن کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔پولیس پانچ سمت سے کارروائی کرتے ہوئے مری روڈ، راولپنڈی روڈ، کھنہ پل، اسلام آباد ایکسپریس وے، جی ٹی روڈ کی جانب سے پیش قدمی کرکے فیض آباد کو مظاہرین سے خالی کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔پولیس کی شیلنگ سے قریب موجود دفاتر میں کام کرنے والوں کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مری روڈ پر اسکول بند کروا دیئے گئے۔انتظامیہ کی جانب سے دھرنا ختم کرانے کے لیے آپریشن کرنے پر تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں نے ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا۔مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ جنہوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کردیں اور ٹائر نذر آتش کیے۔سمبڑیال میں مظاہرین نے اسلام آباد آپریشن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلاکر سیالکوٹ وزیرآباد روڈ بلاک کردیا۔ راولپنڈی میں دھرنے کی حمایت میں ڈسٹرکٹ بار کے وکلا نے کچہری چوک بلاک کردی۔ کامونکے اور سادھوکی میں مظاہرین نے اسلام آباد آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے جی ٹی روڈ بلاک کردی۔ روڈ بلاک ہونے کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ڈسکہ میں بھی مظاہرین نے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے دھرنے کے شرکا پرکارروائی کے خلاف احتجاجا ریلی نکالی جب کہ رینالہ خورد میں تحریک لبیک یارسول اللہ کے شرکا نے نیشنل ہائی وے ٹریفک کے لیے بند کردیا جس کے باعث لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ لاہور میں داروغہ والا، تحصیل ہارون آباد اور داتا دربار کے قریب بھی دھرنا مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کردی جس کے باعث عدالتی امور بند ہوگئے ہیں۔ حسن ابدال، میرپور، آزاد کشمیر، بچیکی میں بھی مذہبی جماعتوں کااحتجاج جای ہے۔نیوکراچی میں اسلام آبادآپریشن کے ردعمل میں نامعلوم افراد نے دکانیں بند کرادیں جب کہ مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے حسن اسکوائر کے مقام پراحتجاج شروع کردیا۔ اس کے علاوہ دھرنا شرکا کے احتجاج کی وجہ سے موٹر وے ایم ٹو چکری، اسلام آباد ٹول پلازہ بند کردیا گیا۔ جب کہ گوجرانوالہ میں مظاہرین نے پنڈی بائی پاس بلاک کردیاجس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سا منا ہے۔واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت ‘تحریک لبیک یارسول اللہ’کے دھرنے کو 20 روز ہوگئے،جسے ختم کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔دھرنے کے شرکا وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے پر بضد تھے جب کہ حکومت کا مقف ہیکہ سڑکوں پر بیٹھ کر یا دھونس دھاندلی سے کسی سے استعفی نہیں لیا جاسکتا۔دریں اثنا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی نشریات بند کردی گئیں ہیں۔تفصیلات کے مطابق فیض آباد آپریشن میں اداروں کی نقل و حرکت کی فلم چلنے کے بعد وزیر اعظم کی ہدایات پت پیمرا نے نجی ٹی وی چینلز کی نشریا ت بند کر دئیں۔ جبکہ دوسری جانب پیمرا کے حکم پر ٹوئیٹر، فیس بْک اور یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا کے کئی پلیٹ فارمز بھی بند کردیے گئے ہیں۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
26 مناظر