استعفیٰ دینے کے بعد زاہد حامد کا پہلا بیان سامنے آگیا،کس کے کہنے پر عہدہ چھوڑا،سب بتادیا




اسلام آباد (زمونگ سوات ڈاٹ کام)سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ کسی کے کہنے پر استعفی نہیں دیا بلکہ ذاتی حیثیت میں فیصلہ کرکے قومی مفاد میں عہدہ چھوڑا ہے پیر کے روز سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے کسی کے کہنے پر وزارت قانون سے استعفی نہیں دیا بلکہ ذاتی حثیت میں بڑا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرکے قومی مفاد میں عہدہ چھوڑا ہے انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز اپنا استعفیوزیر اعظم کو بھجوا دیا تھا جسے وزیر اعظم نے منظور کرلیا ہے۔دریں اثنا وفاقی دارالحکومت میں فیض آباد کے مقام پر 22روز سے جاری  مذہبی جماعت تحریک لبیک کا دھرنا حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی روشنی میں ختم ہوگیا اور دھرنے کے شرکاء  نے علاقہ خالی کردیا‘   وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے‘  میجر جنرل فیض حمید کے ذریعے  طے پانے والے   معاہدے کے مطابق ختم نبوت کے  قانون کی شق  میں تبدیلی کے حوالے سے    راجہ ظفر الحق کی انکوائری رپورٹ 30 دن میں منظر عام پر لائی جائے گی‘   دھرنا شرکاء کے خلاف حکومتی آپریشن کی انکوائری کے لئے ایک بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو تیس روز کے اندر اپنی رپورٹ مکمل کرے گا  اور اور ذمہ داروں کا تعین کرے  گا‘   دھرنے کے آغاز سے  اختتام تک  ہونے والے  سرکاری اور غیرسرکاری املاک کے  نقصان کا  کا تعین کرکے اس کا  ازالہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کریں گی‘  ملک بھر  سے  گرفتا رہونے والے تحریک لبیک کے کارکنان کو 3 دن کے اندر  رہا ‘ کارکنان اور قیادت کے خلاف درج  مقدمات اور نظر بندیاں ختم کردی جائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق پیر کی علی الصبح وفاقی حکومت اور تحریک لبیک کی قیادت کے درمیان دھرنےکو ختم کرنے کے لئے طے پانے والے معاہدے پر  وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور وفاقی سیکرٹری داخلہ ارشد مرزا جبکہ مذہبی جماعت کی طرف سے  علامہ خادم حسین رضوی‘ پیر افضل قادری اور علامہ محمد وحید نور کے دستخط ہیں جبکہ  میجر جنرل فیض حمید کی وساطت سے یہ معاہدہ طے پایا ہے اور معاہدے پر ان کے دستخط بھی ہیں۔ معاہدے  کے مسودے  میں لکھا گیا ہے کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ جو کہ ایک پرامن  جماعت ہے اورکسی قسمکی تشدد اور بدامنی پر یقین  نہیں رکھتی، یہ جماعت ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت میں قانون ردوبدل کے خلاف اپنا نکتہ نظر لے کر حکومت کے پاس آئی مگر افسوس کہ اس مقصد کا  صحیح جواب دینے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا گیا، 21دنوں پر محیط اس کوشش کو اگر بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے، توہماری مندرجہ  ذیل مطالبات کو پورا کیا جائے، ہم یقین دلاتے ہیں کہ ان شرائط پر اتفاق ہونے پر ہم نہ صرف ختم  نبوت دھرناختم کریں گے بلکہ ملک بھر میں اپنے ساتھیوں کو پرامن رہنے کو  درخواست بھی کریں گے۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد جن کی وزارت کے ذریعے اس قانون کی ترمیم پیش کی گئی  کو فوری اپنے عہدے سے برطرف(مستعفی) کیا جائے تحریک لبیک ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی  فتوی جاری نہیں کرے گی۔ الحمد اللہ تحریک  لبیک یارسول اللہ کے مطالبے کے مطابق حکومت پاکستان نے الیکشن ایکٹ2017میں 7Bاور7 C کو مکمل  متن مع اردو حلف نامہ شامل کرلیا ہے،جن اقدام کی تحریک لبیک یارسول اللہ ستائیش کرتی ہے،تاہم راجہ ظفر الحق صاحب کی انکوائری رپورٹ 30دن میں منظر عام پر لائی جائے گی، اور جو اشحاص بھی ذمہ دار قرار پائے گئے ان پر ملکی قانون کے  مطابق کاروائی کی جائے گی۔ 6نومبر2017سے دھرنا کے احتتام پذیر ہونے تک ہمارے جتنے بھی افراد ملک بھر میں گرفتار کئے گئے ہیں ایک سے تین دن تک ظابطہ کی کاروائی کے مطابق رہا کردیے جائیں گے ان پر درجکئے گئے مقدمات اور نظربندیاں ختم کردی جائیں گی۔ 25نومبر2017 کو ہونے  والے حکومتی ایکشن کے خلاف تحریک لبیک یارسول اللہ کو اعتماد میں لے کر انکوائری بورڈ تشکیل کیا جائے۔ جو  تمام معاملات  کی چھان بین کرکے حکومت اورانتظامیہ ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا تعین کرے اور30روز کے اندر انکوائری مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جائے۔6نومبر2017سے دھرنا کے اختتام تک جو سرکاریوغیر سرکاری املاک کا نقصان ہوا اس کا تعین کرکے ازالہ وفاقی صوبائی حکومت کرے گی۔ حکومت پنجاب سے متعلقہ جن نکات پر اتفاق ہوچکا ہے، ان پر من وعن عمل کیا جائے۔یہ تمام معاہدہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل  قمر جاوید باجوہ صاحب اور ان کی  نمائندہ ٹیم  کی خصوصی کاوشوں کے ذریعے طے پایا۔جن کے لیے ہم انکے  مشکور ہیں  کہ انہوں نے قوم کو ایک بہت بڑے سانحہ سے بچالیا۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
13 مناظر