سموگ نے دہلی ٹیسٹ میچ رکوادیا!احتجاجاًسری لنکن کرکٹرز نے ایسا قدم اٹھالیا کہ دیکھنے والے حیران و پریشان رہ گئے




نئی دہلی(زمونگ سوات ڈاٹ کام)انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں سری لنکا اور انڈیا کے مابین جاری تیسرے ٹیسٹ میچ میں اس وقت عجیب صورتحال کا سامنا ہوا ہے جب سری لنکن ٹیم کی سموگ کے حوالے شکایت پر کھیل روکنا پڑا۔ انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق سموگ کے باعت کھیل تین بار کھیل روکنا پڑا جبکہ کچھ سری لنکن کھلاڑی چہرے پر ماسک پہن کر فیلڈ میں آئے تھے اور دو پلیئرز احتجاجاً فیلڈ چھوڑ کر پویلین لوٹ گئے۔سوشل میڈیا پر بہت سےصارفین نے اس حوالے سے اپنی آرا کا اظہار کیا، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سری لنکن ٹیم کا احتجاج جائز تھا جو کہ خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ دیگر نے مخالف ٹیم پر بہانہ بازی کا الزام عائد کیا ہے۔فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں انڈیا نے اپنی پہلی اننگز سات وکٹوں پر 536 رنز بنا کر ڈیکلیئر کر دی ہے۔ کپتان وراٹ کوہلی نے 243 رنز اور مرلی وجے نے 155 رنز بنائے۔اس کے جواب میں سری لنکا کی شروعات بے حد خراب رہی ہے لیکن میچ کے دوران سری لنکا کے کھلاڑیوں کا ماسک پہن کر میدان میں اترنا سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ایک صارف پرتھمیش نے لکھا: ’دہلی میں سموگ کے سبب سری لنکن فیلڈر ماسک پہنے نظر آئے۔ امید ہے کہ بی سی سی آئی مستقبل میں اس بات پر توجہ دے گی۔‘پون شرما نے لکھا: ’کیا سری لنکن کھلاڑی میچ ہار رہے ہیں جو وہ یہ ڈرامہ کر رہے ہیں۔‘جے سی راجکماری نے لکھا: ’انڈین کھلاڑی اور کھیل دیکھنے آنے والے ناظرین نے ماسک نہیں لگائی ہے اور وہ ٹھیک ہیں۔سری لنکن کھلاڑیوں نے ماسک کیوں لگا رکھا ہے؟ یہ تو ڈرامہ چل رہا ہے!‘جے سی کی رائے کے جواب میں یاسین نے لکھا: ’میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ شاید انھیں اتنی آلودگی کی عادت نہیں ہے۔‘سینیئر صحافی شیکھر گپتانے لکھا: ’کوٹلہ میں ماسک پہن کر اتر کر سری لنکا نے یہ پیغام دیا ہے کہ دہلی میں سردی کے موسم میں کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دینی چاہیے، اور جب تک حالات میں بہتری نہ ہو کرکٹ میچ منعقد نہیں کرنا چاہیے۔‘ دہ سطح) ہے خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ سال دہلی میں آلودگی کے سبب ملکی سطح کے دو میچز منسوخ کر دیے گئے تھے۔ دیوندر گلاٹی نے لکھا: ‘اگر ہندوستان کا فضا کا معیار بہت خراب ہے تو توقع ہے کہ سری لنکن کھلاڑی آئی پی ایل کے میچز کے لیے انڈیا نہیں آئیں گے۔’ دہلی میں اتوار کو ایئر کوالٹی انڈیکس دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں دوپہر سے 1.00 بجے ہوا میں پی ایم 2.5 کی سطح کافی زیادہ (نقصان دہ سطح) ہے۔اس کے مقابلے سری لنکا میں آلودگی کی سطح بہت کم ہے۔دہلی میں 203 کے اعداد و شمار کے مقابلے سری لنکا میں ہوا کی کوالٹی کا انڈیکس صرف 57 ہے۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
6 مناظر