بیرونی امدادیں




تحریر : سید اقبال یوسف زئی
قیام پاکستان سے لیکر اب تک اگر ملک کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر دور میں ملک خداداد کو کسی نہ کسی کٹھن مرحلے سے گزرنا پڑا ہے۔ اگر حالات ٹھیک بھی رہے ہیں، تو بعض حکمرانوں نے کرپشن اور دیگر ذرائع سے ملک کو لوٹنے میں کوئی کثر باقی نہیں رکھی۔ پچھلے کچھ دہائیوں سے ملک میں قدرتی آفات اور کشیدہ حالات نے نہ صرف ملک کو اقتصادی طور پر بلکہ استحکام کے لحاظ سے مفلوج رکھا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے کچھ خیرخواہ ممالک نے اپنی امدادی ٹیمیں اور نقد امداد مختلف ادوار میں پاکستان کے لئے مختص رکھی اور مختلف علاقوں میں اس کی عملی شکل بھی نظر آتی رہی ہے۔ آج بھی لاتعداد عمارتیں اور تعلیمی و صحت کے ادارے بیرونی امدادوں پر ٹھکے ہوئے ہیں۔ پاک فوج کے کردار سے نہ صرف ملک خداداد کے عوام باخبر ہے، بلکہ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان افواج نے ہر کھڑے وقت میں بدترین حالات کا سامنا کیا ہے اور ہر جگہ پر سرخ رو ہوئی، آج بھی اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمبرد ازما دکھائی دے رہی ہے۔ بہت ہی باریک بینی اور معاشرے میں اپنے ارد گرد مختلف کرداروں کو غور سے جانچنے کے بعد یہ معلوم ہورہا ہے کہ بیرونی امدادیں مستحق اور مناسب جگہوں پر استعمال نہیں ہورہی اور نہ ہی اس کی پورے ثمرات ان لوگوں تک پہنچ رہی ہیں جو اس امداد کے مستحق ہیں۔ اگر پاک فوج کو قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ جہاں بھی مشکل سے مشکل مرحلہ آیا ہے وہاں پر ہماری فوج نے بڑی آسانی سے ان حالات پر قابو پالیا ہے۔ اگر ان بیرونی امدادوں کو وصول کرنے اور ان کو مستحق افراد اور اداروں تک پہنچانے کے لئے آرمی کی ایک Cell بنائی جائے جو کسی بھی طریقے سے ملک میں داخل ہونی والی امدادیں چاہے وہ مادی شکل میں ہو یا مالی شکل میں، پہلے وصول کریں، پھر اس کی اچھی طریقے جانچ پڑتال کریں اور بعد ازاں مستحق اداروں یا مستحق افراد تک پہنچائے اور پھر یہی Cell اس بات کی بھی تحقیق کریں کہ واقعی یہ امدادیں مستحق اداروں یا افراد تک پہنچ چکی ہے یا نہیں؟بعض جگہوں پر کچھ ادارے ایسے ہیں جو خالصتاً بیرونی امداد پر چل رہی ہیں، لیکن یہ امداد پوری طرح سے مستحق اور صحیح جگہوں پر خرچ نہیں ہوپارہی۔ حال ہی میں یورپی اور خلیجی ملکوں کے بے شمار امدادیں پاکستان کے مختلف حصوں میں مختلف مقاصد کے لئے استعمال ہورہی ہیں، لیکن ان امدادوں کی نہ تو کوئی Audit ہوتی ہے اور نہ ہی ان اداروں کی کوئی تحقیقاتی ٹیم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جو امداد نقد کی شکل میں یا کسی اور شکل میں کسی ادارے یا کسی شخص کو دی جارہی ہے وہ یقینی طور پر ان امداد کو مستحق ادارے پر یا افراد پر خرچ کررہے ہیں یا نہیں؟ اسلئے یہ بہت ہی ضروری ہے کہ آرمی جہاں ہر ادارے میں اپنے خدمات انجام دے رہے ہیں وہاں ایک ایسی Cell بھی قائم کیا جائے جو بیرونی ملکوں سے آنیوالی ہر امدادی اشیاء، رقوم کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کرکے مستحق لوگوں تک پہنچائیے اور اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ واقعی یہ امدادیں مستحق اداروں اور افراد پر خرچ ہورہی ہے۔ اس ضمن میں پاک فوج کے سربراہان بہترین خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ جہاں پر افواج پاکستان نے ہر محاذ پر اپنا سکہ جمایا ہوا ہے وہاں پر اگر یہ Cell قائم ہوئی تو معاشرے میں بے جا حق کھانے والوں اور ذاتی جائیداد بنانے والوں کے ہاتھ بروقت روکے جاسکے گے۔ اگر اس طرح کی کوئی Cell قائم نہیں ہوئی تو مستقبل قریب میں بہت سے لوگ مستحق افراد اور اداروں کے جائز امدادوں کو ناجائز طریقوں سے ہڑپ کرجائینگے، جو کہ ایک آلمیہ ہوگا۔



ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
10 مناظر