تعلیمی عقوبت خانے




تحریر: سید اقبال یوسفزئی
پچھلے کئی دہائیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کے بہت سے ضروری اور نہایت ہی اہم ذمہ داریاں نا اہلی کے وجہ سے التواء کے شکار ہیں۔ اس میں بڑی ذمہ داریاں بھی نا اہل لوگوں کے وجہ سے التواء کی نظر ہورہی ہے اور بعض کم ضروری چیزیں بھی نا اہل لوگوں کی وجہ سے بدتر ہوتی جارہی ہیں۔ بڑی ذمہ داریوں میں ہم سیدوشریف ٹیچنگ ہسپیٹلز کی عمارت کو دیکھیں جو کہ تاحال کام شروع نہ کرسکی۔ بڑی ذمہ داری یونیورسٹی آف سوات کی ہے، جس کے فنڈز بھی واپس اس لئے ہوئی کہ چند نا اہل لوگ مخصوص جگہوں پر تعینات رہیں۔ پاکستان میں تعلیمی فیکٹریاں کام کررہی ہیں جو ہر سال طلباء ڈگریوں کے ساتھ معاشرے میں پہنچا رہی ہیں۔ حکومت کی نا اہلی یہ ہے کہ ڈگری یافتہ لوگ بیروزگاری کے وجہ سے نجی اداروں اور نجی تعلیمی اداروں میں معمولی اجرتوں پر محنت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہ تعلیمی دارے دراصل تعلیم یافتہ اور لائق طلباء کے لئے عقوبت خانوں سے کم نہیں ہیں جہاں ان سے معمولی اجرت لیکر مشین کے طرح کام لیا جاتا ہے۔ سوات میں چونکہ نجی تعلیمی ادارے سینکڑوں کے حساب سے کام کررہی ہیں اور ہر گلی کوچی میں سکول اور کالج قائم ہوگیا ہے جس کا وزن صرف ایک کمرہ، دو کمرے یا ایک چھوٹا سا گھر ہی ہوتا ہے۔ ایسے نجی تعلیمی ادارے بھی قائم کئے گئے ہیں جہاں پر بچوں کو بنیادی سہولیات یعنی سورج کی روشنی، صاف پانی، کھیل کا میدان کچھ بھی مہیا نہیں ہیں۔ بعض نجی تعلیمی ادارے تو تہہ خانوں میں بھی قائم ہیں اور بچے سخت سردی میں ان تہہ خانوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ان نجی تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کے بارے میں بس یہی اہلیت کام کرتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے کہ ان کے پاس صرف کرنے کے لئے کچھ پیسہ موجود ہے اور تعلیمی و اخلاقی لحاظ سے زیادہ تر لوگ عاری نظر آرہے ہیں جس کی بڑی وجہ ثانوی تعلیمی بورڈ کی انتظامیہ کی نا اہلی ہے۔ بورڈ انتظامیہ مختلف اوقات میں مختلف سکولوں کا دورہ کرتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ بچوں کو کس طرح اور کس ماحول میں پڑھایا جارہا ہے اور سکول میں عملہ کتنا تعلیمی یافتہ یا غیر تعلیمی یافتہ ہے۔یہاں پر تعلیمی یافتہ نوجوانوں کو جو مختلف یونیورسٹیوں سے فارغ ہوکر نجی تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم سے آراستہ کررہے ہوتے ہیں ان کے ساتھ انتہائی ظلم کیا جاتا ہے۔ سکول کے کاغذات جب بورڈ کو فراہم کی جاتی ہے توان میں ان اساتذہ کے تنخواہوں کے حوالے سے سراسر جھوٹ پر مبنی ایک تحریر مہیا کی جاتی ہے جس پر بورڈ انتظامیہ بھی خاموش بیٹھی رہتی ہے۔ کبھی بھی سننے یا دیکھنے میں نہیں آیا کہ تعلیمی بورڈ نے کسی نجی تعلیمی ادارے کا دورہ کرکے اسے تالہ لگادیا ہو اور غلط بیانی و غلط تحریری دستاویزات فراہم کرنے پر کسی تعلیمی ادارے کے مالکان کو جیل بھیجا ہو۔ ابھی بھی تعلیمی بورڈ کو نجی سکولوں کے حوالے سے جتنے دستاویزات فراہم کئے جاتے ہیں وہ تقریباً جھوٹ پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔ اس وقت کسی بھی مضمون میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے والے طالب العلم جو نجی تعلیمی ادارے میں تعلیم فراہم کررہا ہے کو 10,000 سے لیکر 12,000 روپے تک ماہوار تنخواہ دی جارہی ہے، لیکن سکول کے جانب سے بورڈ کو فراہم کی جانیوالی تنخواہوں کے فہرست میں کسی بھی استاد کی تنخواہ 25,000 روپے سے کم نہیں بتائی جاتی۔ مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ تعلیمی بورڈ بھی ان تحریروں کو حدیث سمجھ کر محفوظ کرلیتی ہے اور کبھی بھی یہ زحمت گوارا نہیں کی جاتی کہ کسی تعلیمی ادارے کے معائنے کے دوران اساتذہ کو مالکان سے الگ بٹھا کر ان سے پوچھا جائے کہ ان سے جو بے جا مشقت لی جارہی ہے، اس کی اجرت اتنی ہی ہے جو بورڈ کو تحریری شکل میں موصول ہوتی ہے یا سکول انتظامیہ بورڈ کو گمراہ کررہی ہے، لیکن نہیں۔ اس قسم کی اہلیت دکھانے کے بورڈ نے کبھی بھی کوشش نہیں کی ہے۔ حال ہی میں ایک سکول کے معائنے کے دوران مجھے مشاہدہ ہوا کہ بورڈ انتظامیہ بچوں سے سوال جواب کرکے اور بہترین قسم کے چائے پی کر رخصت ہوئی، لیکن انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ بچوں کو نجی تعلیمی ادارے میں کوئی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے یا نہیں۔ بورڈ کے معائنے کا انداز آہستہ آہستہ صرف چائے کے پارٹی تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ کبھی کوئی نجی تعلیمی ادارہ Seal نہیں کیا گیا اورنہ ہی ان نجی تعلیمی اداروں کے طرف سے فراہم کردہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ سکول میں کام کرنے والے دیگر ملازمین سے کوئی سوال جواب ہوئے۔ دوسرے طرف نجی تعلیمی اداروں کے فیسوں میں ہرسال اضافہ ہوجاتا ہے اس طریقہ کار میں پچھلی کئی سالوں میں بڑی تیزی دکھائی دی گئی ہے، لیکن تعلیمی بورڈ کے جانب سے کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں ہوا جس کا والدین کو کوئی خاطر خواہ فائدہ ہوا ہو۔ اس بات سے تعلیمی بورڈ کے اعلیٰ حکام اچھی طرح سے واقف ہیں، لیکن پھر بھی کچھ نہ کرنے کی قسم کھائے ہوئے ہے۔ دوسری طرف نجی تعلیمی اداروں کی اپنی بھی ایک تنظیم ہے جو ہر سال انتخابات بھی منعقد کراتے ہیں، لیکن اس کے اعلیٰ عہدیداران نے بھی کبھی کسی نجی تعلیمی ادارے کے مالکان کو یہ سمجھانے کی کوشش نہیں کی کہ تعلیم کہ فروخت کا کاروبار تو اپنے جگہ لیکن بچوں کو سہولیات اور اساتذہ کو اہلیت کے مطابق تنخواہیں بھی مہیا کرنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں کرپشن ایک رواج ہے اور اس کو ختم کرنے یا اس کو ختم کرنے کے دعوے کرنے والے صرف باتوں کے حد تک ہی محدود ہیں، اسلئے مستقبل میں یہ کاروبار مزید منافع بخش ثابت ہوگا اور سکول کا وزن مزید کم ہوکر کسی گیراج تک ہوکر رہ جائیگا، لیکن پھر بھی نا اہلی ویسے کے ویسے ہی رہیگی۔ صوبائی اور مرکزی حکومت کی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ حکام اگر اپنی آخرت سوارنا چاہتے ہیں تو وہ یہ کوشش کرینگے کہ فوری طور پر ایسے نجی تعلیمی اداروں کو بند کردیں جہاں پر بچوں کو نہ تو سورج روشنی دیکھائی دیتی ہے اور نہ ہی دیگر سہولیات میسر ہیں۔ اساتذہ کے تنخواہوں کے حوالے سے غلط بیانیاں دوسری طرف بڑی ذمہ داری ہے جس پر ٹھوس اقدام اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ تعلیم کی ضرورت تمام معاشرے کو، قوم کو ہے، مگر بھاری فیس کے عوض گیراج میں نہیں! ۔



ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
138 مناظر