ترک سرحدی فورسزکاشام سے ہجرت کرکے آنیوالوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک،ہیومین رائٹس واچ نے سنگین الزامات عائد کردیئے




انقرہ (زمونگ سوات ڈاٹ کام)انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے الزام لگایا ہے کہ ترک سرحدی محافظوں نے شام سے فرار ہو کر ترکی کا رخ کرنے والے مہاجرین پر فائرنگ کی ہے ادھر ترک حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہاکہ بے گھر ہونے والے یہ مہاجرین محفوظ مقام کی تلاش میں ترک سرحد کے قریبی علاقوں کی جانب روانہ تھے کہ اس دوران ترک فوج نے اپن پر فائرنگ کر دی۔ اس ادارے نے سولہ شامی مہاجرین سے گفتگو کیجن میں سے تیرہ افراد نے ترک فوج کی جانب سے کی گئی فائرنگ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شامی حدود کے اندر موجود ان مہاجرین میں سے دس افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔ہیومن رائٹس واچ کی مشرق وسطیٰ کے لیے علاقائی نائب ڈائریکٹر لاما فقیہہ نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عفرین اور ادلب میں ترک فوجی کارروائیوں کے باعث لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق تحفظ کی تلاش میں ترک سرحد کا رخ کرنے والے ان مہاجرین کو روکنے کے لیے ترک فوج تشدد اور فائرنگ سے کام لے رہی ہے۔انسانی حقوق کے اس عالمی ادارے کی خاتون اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ انقرہ نے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ تعداد میں شامی مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور انہیں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنے بیان میں تاہم یہ بھی کہا، ’’لیکن ترکی کے مہاجرین کو پناہ دینے میں فراخدلی کا مظاہرہ کرنے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ترک سرحدی محافظوں کو پناہ کی تلاش میں سرحدوں پر آنے والے مزید تارکین وطن کا تحفظ یقینی بنانے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ادارے نے ترک صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ ملکی فوج کو سرحدی گزرگاہوں پرطاقت کے ہلاکت خیز استعمال سے روکنے کے لیے ہدایات جاری کریں۔ترکی میں صحافیوں نےصدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان ابراہیم قالِن سے اس رپورٹ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ایسی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ حکومت نے شامی خانہ جنگی کے آغاز ہی سے مہاجرین کے لیے ’کھلے دروازے کی پالیسی‘ اختیار کر رکھی ہے۔ترک حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے شامی مہاجرین پر فائرنگ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نے شامی مہاجرین کے لیے کھلے دروازے کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے اور 2011 میں شامی خانہ جنگی شروع ہونے سے لے کر اب تک 3.5 ملین سے زائد شامی شہری ترکی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔تاہم شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ترک سرحد بدستور بند ہے اور سوائے ہنگامی حالات کے، کسی مہاجر کو سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں ہے۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
26 مناظر