سپریم کورٹ نے مشال قتل ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا ،تحریک انصاف کے کس رہنما کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا گیا




اسلام آباد(زمونگ سوات ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے مشال خان قتل از خود نوٹس کیس نمٹا دیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے مشال قتل ازخود نوٹس کی سماعت کی۔اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مشال قتل کیس کے مجرموں کو سزا ہوچکی ہے جبکہ بری ہونے والے ملزمان کے خلاف صوبائی حکومت نے ہائیکورٹ میں اپیل کر رکھی ہے۔چیف جسٹس نے قرار دیا کہ مجرموں کو سزا ہوگئی جس کےبعد ازخود نوٹس نمٹا دیا گیا۔ لندن میں موجود مشال خان کے والد لالہ اقبال نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مشال قتل کے ماسٹرمائنڈ پی ٹی آئی کونسلرعارف کو بھی گرفتارکرنے کا مطالبہ کردیا۔مشال کے والد کا کہنا تھا کہ جو فیصلہ آیا ہے وہ کافی حد تک ان کے موقف کی تصدیق ہے، جن لوگوں کو بری کیا گیا ہے اس حوالے سے ہائی کورٹ سے رابطہ کریں گے اور انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ اس سے کافی حد تک مطمئن ہیں اور فیصلے کو سراہتے ہیں۔مشال خان کے والد نے کہا کہ مجرم عمران کو سزائے موت سنائی گئی ہے جس نے مشال خان پر گولیاں چلائی تھیں اور سزائے موت ٹھیک سنائی گئی۔ لالہ اقبال کا کہنا تھا کہ 25 افراد کو رہا کر کے پورا انصاف نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کونسلر عارف خان سمیت 3 ملزمان تاحال مفرور ہیں، پتہ نہیں یہ ملزمان پولیس کو ابھی تک کیوں نہیں ملے۔انہوں نے کہا کہ 13 اپریل کے واقعے کے بعد میری بیٹیاں اسکول اور یونیورسٹی نہیں گئیں، میری بیٹیاں ٹاپ کرتی تھی لیکن دھمکیوں کی وجہ سے تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں۔لالہ اقبال نے مزید کہا کہ میرا مشال تو واپس نہیں آ سکتا لیکن میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔مقتول مشال خان کے بھائی ایمل خان کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہہمارا مطالبہ تھا کہ تمام ملزمان کو سزا دی جائے، خیبرپختونخوا پولیس مفرور افراد کو گرفتار کرے۔فیصلے پر اطمینان سے متعلق سوال پر ایمل خان نے کہا کہ اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کوئی بیان دیں گے تاہم انہوں نے عمران خان سے اپیل کی کہ وہ صوابی یونیورسٹی کا نام مشال خان کے نام پر رکھنے کا اپنا وعدہ پورا کریں۔خیال رہے کہ ہری پور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 7 فروری کو مشال قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایکمجرم کو سزائے موت، 5 کو عمر قید جب کہ 25 کو 4،4 سال قید اور 26 افراد کو عدم ثبوت پر بری کرنے کا حکم دیا تھا۔۔خیال رہے کہ اس کیس کی ستمبر2017 سے جنوری 2018 تک 25 سماعتیں ہوئیں جن میں 68 گواہ پیش ہوئے جب کہ ہری پور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان نے 27 جنوری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عبدالولی خان یونیورسٹی کا 23 سالہ نوجوان مشال خان صوابی کا رہائشی اور جرنلزم کاطالب علم تھا۔گزشتہ سال 13 اپریل کو مشتعل ہجوم نے مشال کو توہین مذہب کا الزام لگا کر فائرنگ اور تشدد کرکے ابدی نیند سلادیا۔واقعے کے دن ہی اس قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت تک کے لئے بند کیا گیا۔واقعے کے بعد سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی جب کہ جے آئی ٹی نے مشال کو بیقصور قرار دیا اور مقدمے میں ویڈیو کی مدد سے 61 ملزمان کو نامزد کیا گیا جن میں تحریک انصاف کا تحصیل کونسلر عارف ، طلبا تنظیم کا رہنما صابر مایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیا تاحال مفرور ہیں۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
29 مناظر