ہارس ٹریڈنگ اور قانون




تحریر : نصیر اللہ خان ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

ائین پاکستان ارٹیکل ٹو اے  قراار داد مقاصد میں درج ہے  کہاللہ تعالیٰ
ہی کل کا ئنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے۔اس نے جمہور کے ذریعے مملکت
پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے،وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت
کے طور پر استعمال کیاجائے گا۔لیکن حالیہ سینٹ کے انتخابات سے اندازہ
لگانا مشکل نہیں کہ جہاں جمہور نے مملکت پاکستان کے حکمرانوں کو مقررہ
حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر جو اختیار سوپنا ہے اس کو کس طرح
پائمال کردیا گیا ہے  ۔افسوس  کل کلاں یہی لوگ ہمارے لئے قانون بنائیں گے
۔ٹماٹروں  اور گاجروں کی طرح بولی لگی ، بیوپار ہو ا دھنداہوا۔سوچنے کی
بات ہے کہ کس طرح فرار شدہ فرد کو سینٹ انتخابات میں حصہ لینے دیا گیا
۔جو قانون کا احترام  کرتاہےور نہ ہی عدالتوں میں پیش ہوتا ہے۔دوسری طرف
حکمران عدالتوں کے فیصلوں کو مذاق مانتے ہے ۔اداروں کو اپنے پاوں کی جوتی
سمجھتا ہے ۔کیا وقت کی ضرورت نہیں  ہےکہ ایسا قانون بنایا جائے جس میں
ایسے  اوچھے حربوں کو استعمال کرنے والا  تاحیات نا اہل ہوسکیں۔ عوام کب
تک برداشت کرتا رہیگا ۔ایک وقت معین ہے حساب کتاب ہوگا ۔
قانون کے بارے میں ہم کیا سوچتے ہیں ۔ہماری  مجموعی سوچ ہمیں یہ بتا دیتی
ہے کہ مروجہ قانون جو انگریز کا بنایا ہوا نظام ہے ۔ہمارے معاشرے میں
ایلین نا مانوس دیکھا جاتا ہے اس کی کئی وجوہات ہے ۔اگر ایک طرف یہ ہماری
زبان میں نہیں تو دوسری طرف قانون بنیادی طور ہمارے معروض کے مطابق نہیں
ہے ۔انگریز جس کو یہاں پر اپنا نظام حکومت چلانا تھا اس لئے اس کویہاں
قانون کی ضرورت پڑی ۔ برصغیر کے علاوہ دولت مشترکہ کے تمام ممالک میں  یہ
نکتہ کارگرثابت ہوا ۔تقریباًساری دولت و مشترکہ  ممالک میں ضابطہ دیوانی
اور ضابطہ فوجداری کے قوانین کے ساتھ ساتھ پینل لازچھوٹے ترامیم  کے ساتھ
متعارف کرائے گئے۔ اس کے علاوہ قانون میعاد، ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ،
کورٹ فیس سسپیسپک ریلیف ایکٹ ،معاملہ زمین،سول کورٹ وغیرہ قوانین بنائے
گئے۔ یہ با ت اس حد تک درست ہے کہ یہی قوانین ،فیصلہ جات اور بعض
ایڈمنسٹریٹیو قوانین کے عملی اطلاق کے ذریعے عمل میں آئی تو دوسری طرف
علاقائی جرگوں  اور لوگوں کے منشاء کو دیکھتے ہوئے  قوانین بنائے گئے۔میں
یہ سمجھتا ہوں کہ مروجہ قوانین کا لوگوں پر زہادہ اثر اس لئے نہیں ہوتا
کیونکہ لوگ  یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کسی اور کا بنا یا ہوانظام ہے ۔ اس
قانون میں سقم یہ ہے کہ اس میں طبقات کا وجودناگزیر ہے ۔انصاف کے پیمانے
الگ الگ طور پر مقرر کئے گئے ہیں۔غریب اور مالدار کے لئے الگ الگ قانون
ہے ۔حتی کہ عدالتوں میں اس کا امتیاز دیکھنے کو مل جاتا ہے۔گنجلک قانون
اورمہنگا انصاف ہے ۔ قانون کی تشریح کرتے ہوئے قانونی ماہرین   کالے کو
سفید اورسفید کوکالا بناتے ہیں۔
اب آتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ انگریز کو گئے ہوئے ستر سال کا عرصہ
ہوا لیکن انصاف کا ترازو بے یقینی کے صورتحال سے نبرد آزما ہے۔نہ تو
انگریز کا لگایا ہوا جمہوریت کا پودا بار آور ثابت ہوا اور نہ قانون  کا
معاملہ  بھی اپنی جگہ پا گئی ۔اس سارے صورتحال میں عوام رلتے  رہتےہیں
۔اشرافیہ کے سارے انگلیاں گھی میں ۔عوام میں نظم وضبط اور بے چینی قانون
کے عملداری سے قائم ہوجاتی ہے ۔فتنہ فساد اور انتشار کو قانون کے ذریعے
سے لگام دیا جاسکتا ہے ۔لیکن یہاں پر معاملہ اس کے برعکس ہے کسی کو قانون
کا ابجد نہیں معلوم اور ہمارا ملکی قانون یہ ڈیمانڈ کرتا ہے کہ ہر ایک
شہری قانون سے باخبر ہے ۔جیسا کہ اپ سب کو معلوم ہے کہ قانون انگریزی میں
لکھا گیاہے اور دوسری طرف عدالتوں کے فیصلے بھی انگریزی میں لکھے جاتے
ہیں ۔اردو کا یہاں پر شمار شاذ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ کا اردو
میں فیصلے لکھنے پر سنگ میل فیصلہ آچکا ہے ۔یہاں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے
کہ قانونی الفاظ کے لئے اردو میں الفاظ کی کمی اگرچہ نہیں ہے لیکن مستعمل
نہ ہونے کے وجہ سے  تشریح و توضیح کےمسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ حکومت کے پاس
قانونی فیصلوں  کی تشہیر کے لئے کوئی موثر طریقہ کار موجود نہیں ہے۔متضاد
و متصادم فیصلہ جات اس پر مستزاد ہے ۔قانون کی شرح کرتے ہوئے اس کی ہیت
تبدیل کی جاتی ہے۔البتہ اس کو قانونی حیثیت کم ہی ملتا ہے ۔
ہونا تو یہ چاہئے کہ بچوں کو نصاب میں لازمی طورپر قانون کے اسباق پڑھانا
چاہئے۔اس کے ساتھ ساتھ صحت کی آگاہی بھی انتہائی  ضروری ہے۔  لیکن یہاں
الٹا صورتحال ہے کوئی اس بارے میں سوچتا ہی  نہیں ۔ عورتوں ، بچوں کے
حقوق نہ ہونے کے برابر ہے ۔ادراتی اورشعبہ جاتی تعلیم اور صحت تو سب کے
سامنے ہے۔
ایسے حالات میں کچھ وکیلوں نے پریکٹس کرنا چھوڑ دیا ہے اور اس کی وجہ یہی
ہے کہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ نئے قوانین کے در آنے سے نئے مسائل  جنم لیتے
ہیں ۔اس میں ایک طرف وکیلوں اور دوسرے طرف ججوں کو مسائل ہوتے ہیں۔بعض
وکیل سرکار کی نوکری پسند کرتے ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کاروباری
افراد کورٹ  کچہری میں آنے سے  کتراتے ہیں کیونکہ عدالتوں میں  کیسز
زیادہ ہوتے ہیں اور ججز کو فیصلہ کرنے کے لئے  وقت مشکل سے ملتا ہے ۔اس
لئے کاروباری افراد اپنے مشکلات کو لکھ لیتے ہیں اور عدالتوں کے باہر ہی
کوئی راضی نامہ وغیرہ تحریر کرکے کورٹ کچہریوں سے دو ربھاگتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ جب تک ملک میں قانون کی حکمرانی او رطبقاتی تقسیم ختم
نہیں ہوگی تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوسکتا ۔قانون کو اس کے سپرٹ کے مطابق
نافذ العمل کردیا جائےتو کسی اور کام کی ضرورت نہیں رہی گی ۔ لازمی طور
پر جرائم میں کمی  آئی گی ۔اپ بھلے بہترین تعلیم فراہم کردیں لیکن اگر
قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو وہی تعلیم سائنسی جہلا پیدا کرتی ہے ۔اس
میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوسکتا   ہے کہ اگر سیاسی اور  جمہوری حکومت کو
استحکام حاصل ہو تو ادراے  مستحکم اورمضبوط  ترہوتے ہیں۔ جہاں مذکورہ
ادروں میں   کم ظرف اور نااہل سیاسی بیوپاری  بونے بیٹے ہو ں اورجہاں
بنیادی نظام  میں اصلاح پذیری کا عمل نہیں ہوں تو  اس طرح کے نام نہاد
سیاسی ادارے اور بڑے بڑے پراجیکٹ  بنانے کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہوتی۔وہاں
صرف ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے۔ پاکستان کے عوام شعوری طور پر بالغ ہوگئے ہیں
اس لئے اب  لوگ قانون کی حکمرانی ،آئین کی بالادستی اور انصاف کے بغیر
گزارہ نہیں کرسکتی ہیں ۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
114 مناظر