ثنا ء اللہ کو مونچھوں سے پکڑ کر جیل لیکر جائیں گے،عمران خان کا اعلان




فیصل آباد(زمونگ سوات ڈاٹ کام )پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا ہے  کہ فیصل آباد میں سب سے زیادہ بے روز گاری ہے جب  ملک کی قیادت میں ڈاکو بیٹھے ہوں گے تو وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔لیکن ہم نوجوانوں کے جنون سے بڑے بڑے ڈاکوؤں کو شکست دیں گے۔وہ فیصل آباد میں کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے ۔عمران خان نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا جیسی پولیس یورپ میں بھی نہیں ہے۔خیبر ہختونخوا پولیس جیسا نظام پنجاب اور سندھ میں بھی لے کر آئیں گے۔ عابد شیر علی نواز شریف اور شہباز شریف کا چمچہ ہے۔ رانا ثنا ء اللہ کو مونچھوں سے پکڑ کر جیل لے کر جائیں گے۔دریں اثناپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کی پیدوار ہیں، قوم کو پیشگی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف ہی کامیاب ہوگی،ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے ہو، اور اگر ہم کامیاب ہوگئے تو فیڈریشن مضبوط ہوگی ،انہوں نے نواز شریف پر جوتے پھینکے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ہماری اخلاقیات نہیں ہے، سیاہی پھینکنا اور جوتا پھینکا کوئی مہذب طریقہ نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو فیصل آباد میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف لیڈر نہیں تھے، انہیں لیڈر بنایا گیا اور انہیں تمام وسائل مہیا کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جس شخص کے ساتھ شانہ بشانہ اسٹیبلشمنٹ کھڑی رہی ہے وہ نواز شریف اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اس وقت جنرل (ر) ضیاء4 الحق والی اسٹیبلشمنٹ اور جسٹس قیوم جیسا جج نہیں ملا۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ’اس وقت عدلیہ اور فوج غیر جانب دار ہے، جبکہ شریف برادران نے ہمیشہ غیر جانب دار نہیں بلکہ اپنے امپائرز بلا کر میچ کھیلا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کنونشن سارے پاکستان میں عام انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی ممبر شپ کا حصہ ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تاریخ رقم ہونے جارہی ہے اور آج تک چھوٹے صوبوں سے کبھی چیئرمین سینیٹ منتخب نہیں ہوالیکن اب ہوگا۔ بلوچستان میں بہت زیادہ احساس محرومی رہی ہے اور اسی احساسِ محرومی کو صوبے میں موجود علیحدگی پسند عناصر نے اپنے مفاد میں استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے آتا ہے تو یہ ملک میں فیڈریشن کو مضبوط کرے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں احساسِ محرومی میں بھی واضح کمی ہوگی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے اسلام آباد میں ان سےملاقات کی اور اپنے نامزد کردہ امیدوار کی حمایت کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے نامزد کردہ امیدواروں میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تاہم میر عبدالقدوس بزنجو کی درخواست پر ان کے ان کی حمایت کی جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے ہو، اور اگر ہم کامیاب ہوگئے تو فیڈریشن مضبوط ہوگی۔جب ان سے آئندہ الیکشن کے بارے میں سوال کیا گیا کہ 2018 کے انتخابات میں کیا اصلاحات دیکھنے میں آئیں گی جس پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں قوم کو پیشگی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف ہی کامیاب ہوگی‘۔ نواز شریف پر جوتے پھینکے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایسے واقعات ہماری اخلاقیات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ایسے عمل میں تحریک انصاف کا کوئی کارکن ملوث نہیں ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ سیاہی پھینکنا اور جوتا پھینکا کوئی مہذب طریقہ نہیں ہے۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
30 مناظر