پختون کا مقدمہ‎




تحریر : نصیر اللہ ایڈوکیٹ

’’پختون ازم‘‘ بلاتحریر ضابطہ و دستور ہے، جس کو دوسرے الفاظ میں ’’پختون ولی‘‘ کہتے ہیں۔ پختون ازم، پختونو ں کو دراصل ایک قوم اور اس کے رسم و رواج ان کے علاقائی و قبائلی تشخص اور ان کی زبان ہی کے طور پر نامزد کرتا ہے۔ پختون قوم دنیا کی دوسری قوموں کی نسبت من حیث القوم مسلمان ہیں۔ پختون کوڈ کے بعض ایسے عوامل ہیں جن سے پختون کی پہچان ہوتی ہے، جس میں کئی ایسے رسم و رواج ہیں جن کو ہم زیرِ بحث لانے کی کوشش کریں گے اور یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ پختون دیگر قوموں کے رواج کی نسبت زیادہ سخت اور اپنے رواج اور دستور کی پاس دار قوم ہیں۔ یاد رہے پختون قوم انتہائی مہذب، وفا دار، جفا کش اور اپنی روایات پر سختی سے کاربند قوم ہے ۔
* پختون ولی:۔ پختون ولی اور ورورولی (بھائی بندی) پختونوں کی شناخت ہے۔ اگر کوئی اپنے آپ کو پختون کہتا ہے، تو اس میں پختون ولی کے درج ذیل لوازمات ہوں گے۔
* ناموس:۔ ناموس کو با الفاظ دیگر ایک شخص اور قوم کی مجموعی عزت نفس بھی کہا جاتا ہے۔ پختونوں میں عورت ذات، چادر اور چاردیواری کو امتیازی مقام حاصل ہے۔ دراصل پختون، عورت ذات کی عزت کو اعلیٰ حیثیت و مرتبہ دیتے ہوئے اس کو گھر یعنی انتظامی یونٹ کی سربراہی دیتے ہیں اور جب کبھی بھی کوئی کینہ پرور دشمن چادر اور چاردیواری کے تقدس پا مال کرتا ہے، تو یہ پختونوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایسے کسی دشمن کو قطعاً کوئی معافی نہیں دی جاتی، جو ناموس یعنی عزت کو داؤ پر لگا دے۔ پختونوں میں ناموس یا ماموس پختونوں کے رسم و رواج میں شامل ہے۔
* غیرت:۔ غیرت اور پختو (پختو، پختونوں کی زبان ہے اور پختو کو ایمان داری، سچائی، وفاداری اورغیرت وغیرہ بھی کہتے ہیں) مماثل الفاظ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پختون اپنی اور دوسروں کی عزت کا خیال رکھنے والا ہوتا ہے۔ پختون اپنے وطن، قوم، ننگ وغیرت پر اپنا سر بھی دینے سے گریز نہیں کرتا۔ جب کوئی پختون کا دشمن پیغور دیتا ہے یا اس کی قومیت کو للکار تا ہے، تو پختون اپنے تن من دھن کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
* مہمان داری:۔میلمستیا یعنی مہمان داری پختونوں کی خصلت ہے اور اپنے مہمان چاہے وہ کوئی بھی ہو یا کسی قوم اور نسب سے ہو، کی خاطر تواضع کرے گا۔ حتی کہ مہمان پر جان چھڑکے گا۔ اس کا ہر حال میں خیال رکھے گا بلکہ یوں کہا جائے کہ وہ اپنے مہمان کا ہر طریقے سے خیال رکھے گا ۔ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ پختون اگر بادشاہ بھی ہوگا، تو وہ مہمان کی عزت اور مہمان داری کے لیے اپنی بادشاہی تک بھی قربان کر ے گا۔ اس کی مثال حالیہ امریکی و استعماری قوتوں کا افغانستان پر حملہ ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے سعودی نژاد القائدہ کے سرپرست اسامہ بن لادن کی حوالگی کا افغانستان کے امیر ملا عمر (قطعِ نظر اس کے کہ وہ طالب تھا) سے مطالبہ کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ بن لادن کی حوالگی کی صورت میں افغانستان پر حملہ نہیں کیا جائے گا، لیکن افغانستان کے ا میرملا عمر نے القائدہ کے سربراہ کو پناہ دینے کا وعدہ ایفا کرکے پورا کیا اور اس ضمن میں سامراج کابل پر حملہ آور ہوکر ملا عمر کی حکومت کو ختم کر گیا اور اب تک کابل پر قابض ہے ۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پختون دنیا کی بدقسمت ترین قوموں میں سے ایک ہیں، جو بعض اوقات داخلی اور بیرونی قوتوں کی وجہ سے پسماندہ اور روبہ زوال رہتے ہیں۔ کچھ جہالت، اپنے سخت رسم ورواج اور تربگنی کی جنگوں کی وجہ سے غیر ترقی یافتہ رہ گئے ہیں۔ ایک وجہ اس کی مگر یہ بھی ہے کہ ان کو اپنوں کے نزدیک نہیں ہونے دیا گیا۔
مغلوں نے پختونوں میں کسبی اور ہنر مندی کے لحاظ سے پیشے بنائے اور باقاعدہ طور پر اس کی معاشرتی گریڈنگ کرکے ذاتیں بنائیں۔ یہ ایک طرح سے پختونوں کی تقسیم کا عمل تھا۔ اس کے بعد انگریز وں نے اس کو چار مختلف منطقوں میں تقسیم کر دیا، جس میں جنوبی پختونخوا، شمالی پختونخوا، افغانستان اور برصغیر کے کچھ دیگر علاقے جہاں پر پختونوں کی آبادی موجود ہے۔ پاکستان سے الحاق کے وقت پختونوں کے بعض علاقوں کو مزید تقسیم کیا گیا۔ اس سے رہی سہی کسر پوری ہوگئی۔ حالاں کہ اس میں ایسے علاقے بھی تھے جو کہ برصغیر کا حصہ نہیں تھے۔ جہاں ایک طرف سامراج نے پختونوں کو تقسیم کیا، وہاں دوسری طرف خود پختون بھی تقسیم کرنے کے عمل کے ذمہ دار ہیں۔ اس ساری تقسیم سے ہوا یوں کہ پختونوں کی مزید تقسیم عمل میں لائی گئی اور نفرت کی فضا قائم ہوگئی۔ یاد رہے پختون دراصل افغان ہیں لیکن لازمی طورپر ہر غیر پختون افغان نہیں ہے۔ افغان پختونوں کے علاوہ پختونخوا میں دیگر قومیتیں بھی رہتی ہیں جن میں کوہستانی، ہندکو، گجر، چترالی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب سے برصغیر کی آزادی عمل میں لائی گئی، پختونو ں کو ایک خاص مقصد کے تحت استعمال کیا گیا۔ فاٹا اور پاٹا کو قانونی اور آئینی حیثیت نہ دے کر ان کے حقوق کا مؤثر دفاع نہ کیا گیا۔ سوویت یونین کے خلاف افغانستان اور خیبر پختونخوا کی سرزمین اور پختونوں کو خصوصاً ٹریننگ دے کر جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ پختونخوا میں جہادی کیمپ بنائے گئے، جن کی وجہ سے سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور امریکہ جس کے لیے پاکستان نے جنگ لڑی تھی، دبے پاؤں نکل گیا۔ اس طرح جہادی کیمپ اوروہی مجاہدین خیبر پختونخوا میں رہ گئے۔ نائن الیون کے بعد طالبان کے خلاف امریکہ نے دوبارہ مہم جوئی شروع کی۔ پرویز مشرف صدر بش جونیئر کے ایک دھمکی آمیز فون کال پر امریکہ بہادر کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کھڑا ہوا اور یوں دوبارہ بلکہ سہ بارہ پختونوں کی سرزمین زیر عتاب آنے لگی۔ افغانستان کی جنگ کے اثرات اور دہشت گرد یہاں عود کر آئی، جس سے نمٹنے کے لیے اسّی ہزار عوام خصوصاً پختونوں کو قربانی دینا پڑی۔ کاروبار اور معیشت تباہ ہوکر رہ گئی۔ انفراسٹرکچر، سکول اور کالج سب کچھ تہہ وبالا ہوگیا۔ اب حالت یہ ہے کہ پختونوں کی سرزمین میں دہشت گردی سے امن وامان تہہ وبالا ہوگیا ہے۔ ہر جگہ فوجی چھاؤنیاں بنائی گئیں۔ جگہ جگہ چیک پوسٹیں اور مائنز لگائے گئے۔ پختونوں کی روایا ت غیرت اور ناموس کا جنازہ نکال دیا گیا۔گھر گھر چیکنگ شروع ہوگئی۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس پامال کیا گیا۔ پختونوں کے ساتھ پاکستان کے دیگر منطقوں میں امتیازی سلوک کا رویہ جاری ہے۔ پختون کو دہشت گرد سمجھا جاتا ہے، اس کو جاہل ناہنجار کہہ کر اس کو پست سے پست نوکریاں دی جاتی ہیں۔ پختونخوا کے بہت سے علاقوں میں سکول اور کالجز نہیں ہیں۔ کوئی میگا پراجیکٹ اور کوئی انڈسٹریل زونز نہیں بنائے گئے۔ نوجوان تعلیم یافتہ بے روزگار ہیں اور در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ایف سی آر کا کالا قانون نافذ ہے، جس کی وجہ سے پختون علاقوں میں بغاوت کے آثار جھلک رہے ہیں۔استحصال ہنوز جاری ہے اور کوئی امید کی کرن دکھائی نہیں دے رہی۔ حتی کہ پختون پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق اگر سلوک کرنے کا کہتا ہے، تو اس پر غدار کا ٹھپا لگا دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے پختون تحفظ جیسی تحاریک جنم لیتی ہیں۔ اربابِ اختیار اب تو ہوش کے ناخن لیں اور مزید امتیازی رویہ بند کریں۔خدارا، پختونوں کو اس کے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ دیجیے۔
مضمون کی تنگ دامنی کے پیشِ نظر کسی اور وقت دیگر پختون روایات پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ مضمون میں کسی کی دل آزاری ہر گز مقصود نہیں، صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کسی طرح پختون قومی وحدت قائم ہوجائے، حکومتِ وقت پختونوں کے ساتھ رکھے گئے امتیازی سلوک سے باز آکر ترقی کے لئے منصوبے بنائے۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
50 مناظر