(ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے وزارت عظمیٰ کیلئے شہباز شریف کو متفقہ امیدوار نامزد کر دیا ،نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے حوالے سے بھی اہم فیصلے




لاہور( زمونږ سوات ډاټ کام)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ مرکزی مجلس عاملہ نے وزارت عظمیٰ کیلئے پارٹی صدر محمد شہباز شریف کو متفقہ امیدوار نامزد کر دیا ہے،دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر 8اگست کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا جائے گا جس میں (ن) لیگ کے ملک بھر سے ٹکٹ ہولڈرز شرکت کریں گے ، عمران خان نے حلقے کھولنے کا بیان دینے کے بعد حسب عادت یوٹرن لے لیا ہے ،پہلے جھوٹے تھے اب ووٹ چور بھی ہو گئے ہیں ، آزاد امیدواروں سے رابطے جاری ہیں اور آئندہ چند روز میں دوبارہ پارٹی کا اجلاس بلا کر پنجاب کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ مریم اورنگزیب نے بتایا کہ مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس پارٹی صدر محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پانچ سے چھ گھنٹے جاری رہا جس میں اہم معاملات زیر بحث آئے ۔ اجلاس میں چلاس میں بچیوں کے سکولوں کو جلانے کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ۔ اجلاس میں ایک مرتبہ پھر 2018ء کے دھاندلی زدہ انتخابات کی بھرپور مذمت کی گئی او ر فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملے پر تمام سیاسی قوتوں سے ہم آہنگی کرنے کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں اصل مینڈیٹ کو دھاندلی زدہ مینڈیٹ سے تبدیل کیا گیا ، ہم اقلیت کے مینڈیٹ کی مذمت کرتے ہیں او رجب تک ہم ان سارے معاملات کو عوام کے سامنے نہیں رکھیں گے چین سے نہیں بیٹھیں گے اور انتخابات کے حوالے سے عوام اور سیاسی جماعتوں کے اعتراضات سامنے لائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی پروائٹ پیپر کی تیاری کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی نے ابتدائی سفارشات پیش کی ہیں جس پر شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ وائٹ پیپر کو جتنی جلد ممکن ہو سکے حتمی شکل دی جائے تاکہ تاریخی دھاندلی کی حقیقت عوام کے سامنے رکھی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی مجلس عاملہ نے متفقہ طور پر محمد شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کیلئے نامزد کر دیا ہے ۔ دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف 8اگست کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے جس میں مسلم لیگ (ن) کے ملک بھر سے ٹکٹ ہولڈرز شریک ہوں گے ۔ ہم الیکشن کمیشن کی کوتاہی ،استعداد نہ ہونے کے معاملات ، ووٹ اور مینڈیٹ کی چوری کو سامنے لائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آج تک بھی امیدواروں کو فارم 45نہیں دئیے گئے بلکہ کثیر تعداد کوفارم 45کاکچی پرچیوں پر اجراء کیا گیا ،کئی امیدواروں کے نتائج روک لئے گئے ہیں۔ ان معاملات پر بشمول پی ٹی آئی کے امیدواروں کو بھی اعتراض ہے کہ فارم 45میں ردو بدل کیا گیا ، ایک ہی وقت میں آرٹی ایس سسٹم کو بٹھا دیا گیا تھا ۔ (ن) لیگ اور دیگر جماعتیں اس حوالے سے ثبوت سامنے لائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صحافت کی جبری سنسر شپ کی بھی مذمت کی گئی ہے اور اسے آزادی صحافت کا گلہ گھوٹنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا اگر 120روز کے دھرنے کو لائیو کوریج مل سکتی ہے تو جن انتخابات کو مسلم لیگ (ن) رد کر چکی ہے جن پر عوام اور دیگر سیاسی جماعتوں کے اعتراضات ہیں انہیں آزادی کے ساتھ کیوں نہیں دکھایا جاتا۔ عمران خان نے حلقے کھولنے کے حوالے سے بڑھک مار کر یوٹرن لے لیا ہے ،عمران خان نے تو کہا تھاکہ جتنے حلقے چاہیں گے کھولوں گا لیکن دوبارہ گنتی کی درخواست پر ہی بابر اعوان نے حکم امتناعی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے ،اگر عمران خان کو کوئی خوف نہیں تو دوبارہ گنتی ہونے دیں ۔ خود ساختہ وزیراعظم کم از کم اپنی تقریر کی ہی لاج رکھ لیں کیونکہ انہیں پوری قوم دیکھ رہی ہے ۔ ابھی تو حلقے کھولنے کی بات ہی نہیں ہوئی ہم اس معاملے کو بھی آگے بڑھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان عادت سے مجبور ہیں ، انہوں نے حلقے کھولنے کے حوالے سے عوام کے سامنے جھوٹ بولا ہے ،وہ عوام کے سامنے جو اعلان کریں گے ان کا عمل اس کے برعکس سامنے آئے گا ، ان کے دل میں چور ہے ، پہلے وہ جھوٹے تھے اب ووٹ چور بھی ہیں ۔ انہوں نے پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ (ن) لیگ کے آزاد اراکین سے رابطے ہیں اور ہمارے نمبرز بڑھ رہے ہیں ۔ آئندہ چند روز میں پارٹی کا دوبارہ اجلاس بلایا جائے گا جس میں اس بارے حتمی فیصلہ کیا جائے گا ۔پی ٹی آئی کی جانب سے نوٹوں کی منڈی لگی ہوئی ہے لیکن (ن) لیگ نے ایسی سیاست کی ہے او رنہ کرے گی ،ہم تحریک انصاف کی طرح آزادامیدواروں کوخریدیں گے نہیں۔قبل ازیں مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا ۔ جس میں راجہ ظفر الحق ، خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، حمزہ شہباز ، رانا ثنا اللہ ، مریم اورنگزیب ، رانا مشہود احمد خان سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں انتخابات کے بعد کی صورتحال ، مبینہ دھاندلی کے خلاف دیگر جماعتوں سے ہونے والے رابطوں ، وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے امور بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مبینہ دھاندلی کے خلاف وائٹ پیپر مرتب کرنے کے حوالے سے تشکیل دی گئی کمیٹی نے اپنی ابتدائی سفارشات پیش کیں جس پر شہباز شریف نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تیاری کو مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کی ہدایت کی ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پنجاب میں نمبرز کے اعدادوشمار اور آئندہ کے کردار کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ آنے والی حکومت کامقابلہ کیاجائے گا ۔اجلاس میں نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے حوالے سے بھی بات ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ نیب کے فیصلے کیخلاف قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
172 مناظر