ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کے بعد ایک اور تنازع کھڑا ہو گیا




اسلام آباد(زمونگ سوات ڈاٹ کام)وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کیلئے دبائو کے بعد ایک یا دو نہیں بلکہ 17سرکاری ملازمین کے تبادلے کیلئے پی ٹی آئی ایم این سے سردار ذوالفقار خان کی جانب سے ڈی سی چکوال غلام صغیر پر دبائو ڈالنے کا انکشاف، ڈی سی چکوال سامنے آگئے، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ ڈالا۔تفصیلات کے مطابق ڈی سی چکوال غلام صغیر شاہد نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی ایم این اے سردار ذوالفقار خان نے سفارشات پر عمل نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں، پاکستان کے قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر چکوال نے مبینہ طور پر الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی نے 17پٹواریوں کے تبادلےکیلئے ان پر دبائو ڈالا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھے گئے ایک خط میں ڈی سی چکوال غلام صغیر شاہد نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی ، ایم این اےسردار ذوالفقار علی خان نے سفارشات پر عمل نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔روزنامہ جنگ کے مطابق،ڈی پی او پاک پتن کے متنازعہ ٹرانسفر کا معاملہ ابھی تھما نہیں تھاکہ سیاسی طور پر اثر انداز ہونے کا ایک اور معاملہ سامنے آ گیا ہے، جس میں چکوال کے پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرین ملوث ہیں۔ڈپٹی کمشنر چکوال نے مبینہ طور پر الزام عائد کیا ہے کہ حکمران جماعت کے نو منتخب رکن قومی اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان نے ان پر درجنوں ریونیو عہدیداروں جس میں پٹواری اور گرداوار بھی شامل ہیں کو تبدیل کرنے کے لیے دبائو ڈالا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھے گئے ایک خط میں ڈی سی چکوال غلام صغیر شاہد نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے نومنتخب ایم این اے نے انہیں تحریری طور پرہدایات دی ہیں کہ 17گرداوار، پٹواری اور ریڈرز کے تبادلے اور تعیناتی کی جائیں بصورت دیگر وہ سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ڈی سی چکوال نے ایک انگریزی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالا خط انہی کا ہے اور انہوں نے حکمران جماعت کے ایم این اے غیر قانونی طور پر سرکاری معاملات میں مداخلت کررہے ہیں ، تمام ثبوت منسلک کردیئے ہیں۔ دوسری جانب ایم این اے سردار ذوالفقار علی خان سے رابطہ کرنے پر انہوں نے ڈی سی چکوال کے الزامات کی تردید کرنے کے بجائے کہا ہے کہ مذکورہ افسر نے ان کے خلاف خط لکھ کر تمام حدود پار کر دی ہیں۔ ہ مناسب فورم پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ میں مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا کیوں کہ میں مناسب فورم میں اپنا جواب دوں گا۔واضح رہے کہ ڈی سی چکوال کی جانب سے لکھے گئے خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سردار ذوالفقار نے 31اگست 2018کو ڈی سی کو ایک سیل لفافہ بھجوایا، جس میں رکن قومی اسمبلی نے محکمہ ریونیو کے 17عہدیداروں کے ٹرانسفر اور تعیناتی کی سفارش کی تھی۔اس خط میں ایم این اے کے دستخط بھی ہیں۔یکم ستمبر،2018 شام 4بجے مذکورہ رکن قومی اسمبلی میرے دفتر آئے اور فہرست کے مطابق ریونیو فیلڈ اسٹاف کی تعیناتی اور ٹرانسفر کے لیے اصرار کیا۔کل3ستمبر، 2018کو صبح 11بجے رکن قومی اسمبلی نے اپنے موبائل سے مجھے فون کیا اور محمد اسلم پٹواری کا ٹرانسفر آرڈر معطل کرنے کا کہا۔ان کا ٹرانسفر تحصیل کلر کہار سے تحصیل چوا سیداں شاہ 31اگست 2018کو کیا گیا تھا۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ اسلم پٹواری کا تبادلہ اسسٹنٹ کمشنر چوا سیداں شاہ کی تحریری درخواست پر کیا گیا تھا جنہوںنے درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ مذکورہ تحصیل میں ریونیو فیلڈ اسٹاف کی شدید کمی ہے ، جس کے سرکاری امور متاثر ہورہے ہیں۔ڈی سی نے ای سی پی اور سپریم کورٹ کو لکھے گئے اپنے خط میں یہ بھی بتایا کہ میں نے مجاز اتھارٹی کے طور پر 5پٹواریوں کا تبادلہ تحصیل چکوال اور کلر کہار سے تحصیل چوا سیداں شاہ انتظامی اور عوامی مفاد میں کیا۔انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پیر کے روز ایم این اے، سردار ذوالفقار علی خان نے انہیں فون کیا اور کہا کہ تبادلوں کے احکامات معطل کیے جائیں کیوں کہ انہوں نے یہ ٹرانسفر کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔جس پر میں نے انہیں بتایا کہ ریونیو فیلڈ اسٹاف کے تبادلے اور تعیناتیاں ضلعی کلکٹر یا متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر پالیسی کے مطابق کرتا ہے اور معزز ایم این اے کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے ۔ڈی سی کا کہنا تھا کہ میں نے ان کی سفارشات پر تبادلے اور تعیناتی کرنے سے انکار کیا ، جس کے جواب میں انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ وہ سفارشات کے مطابق تمام تبادلے اور تعیناتیاں کروائیں گے ، دیکھتے ہیں اس میں کس کی جیت ہوتی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ انتظامی امور میں مذکورہ ایم این اے کی دخل اندازی ناجائز اور غیر قانونی ہے ۔لہٰذا یہ درخواست کی جاتی ہے کہ سرکاری معاملات میں مداخلت پر مذکورہ ایم این اے کے خلاف قانون کے تحت ضروری اقدامات کیے جائیں ۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
84 مناظر