عمران خان کی صورت میں آنیوالی تبدیلی اسلام اور قومی تہذیب بر عکس ہے،نصاب تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو کیا ہوگا؟مولانافضل الرحمن نے خبردارکردیا




بنوں (زمونگ سوات ڈاٹ کام )قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں ،مدارس کا نصاب تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت کے یہ آخری ایام ثابت ہونگے، عام انتخابات گزر گئے ،قوم کی اُمنگوں کے بر عکس فیصلے ہوئے ،دھاندلی کا مؤقف صرف ایم ایم اے کا نہیں تمام سیاسی جماعتوں کا ہے،عمران خان کی صورت میں آنیوالی تبدیلی اسلام اور قومی تہذیب بر عکس ہے ۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ان خیالات کا اظہار بنوں منڈان پارک میں جے یو آئی کے تحصیل و ضلع کونسلروں اور شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں ،آ ج مدارس پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور پیداوار کے مقامات کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قربانی کی کھا لیں اکھٹا کرنے پر علماء کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اور تعلیمی اداروں کا نصاب ایک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، ایسا کرنے والے یاد رکھیں کسی کا باپ بھی ایسا نہیں کرسکتا، مدارس میں مداخلت کی گئی تو ٹانگیں توڑ دی جائینگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو یہ حکومت کے آخری دن ثابت ہونگے ۔اُنہوں نے کہا کہ عام انتخابات گزر گئے قوم کی اُمنگوں کے بر عکس فیصلے ہوئے ،دھاندلی کا مؤقف صرف ایم ایم اے کا نہیں بلکہ تمام جماعتوں کا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ ،پاکستان مسلم لیگ (ن) نے صوبہ پنجاب میں انتخابات جیتے مگر وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے ،انتخابی نتائج کے تمام مراحل کی کہانی پورے ملک میں بیان ہوتی ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ اکثریت، وزر اعلیٰ اور وزیر اعظم جعلی ہیں ،حکومت کے شروع ہی میں عوام پر مہنگائی کا طوفان آ کھڑا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صورت میں جو تبدیلی آئی وہ اسلام اور قومی تہذیب بر عکس ہے جس پارٹی نے فحاشی پھیلائی، اپنی بنیاد مغربی تہذیب پر رکھی ہو ان سے ریاست مدینہ کی توقع نہیں کی جا سکتی، یہ منہ اور ریاست مدینہ ؟، یہ ریاست مدینہ کی توہین کر رہے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک پر بوجھ ہے جو نئی نسل کو گمراہ کر رہی ہے مگر ہم سیدھا راستہ دکھا ئیں گے ہم نے صدارتی انتخابات اس بنیاد پر لڑے کہ لبرل دنیا سے مقابلہ کرنا تھا،پی پی پی کے صدارتی اُمیدوارنے نظریاتی جنگ شروع کی اور اعلان کیا کہ میں لبرل ہوں اگر مولانا صدر منتخب ہوئے تو وہ مغربی دنیا کو قبول نہیں ہونگے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو سنوارنے کیلئے قادیانی کو لایا گیا جو مغرب کیلئے کام کرتا ہے اس کواقتصادی پالیسی کو تبدیل کرکے مغرب کی طرز پر چلانے کے طور پر لایا گیا تھا نام نہاد وزیراعظم نے علماء کرام کو تقسیم کرنے کیلئے بلایا لیکن علماء نے ملاقات کرنے سے بھی انکار کیا جس پر ہم ان علماء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کیونکہ مسئلہ ایک آدمی کا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران قادیانیوں کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں لیکن ایسا ہماری لاشوں پر گزرنے کے بعد ہو ،گا جب تک علماء اسمبلیوں میں موجود ہیں ملک میں قادیانیوں کا کوئی کام نہیں ۔اس موقع پر سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی ، این اے 35کے امیدوار زاہد اکرم خان درانی ، سابق ایم پی اے ملک ریاض خان ، جے یو آ ئی کے ضلعی امیر قاری عبداللہ ، سابق ایم پی اے عبدالرزاق مجددی ، تحصیل ناظم انجینئرملک احسان ،اعزاللہ اللہ حقانی ، بلال احمد ، عبدالہادی و دیگر نے بھی خطاب کیا اکرم خان درانی نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ انتخابی مہم کے دوران ہمیں شکست سے دوچار کرنے اور انتخابی مہم سے دور رکھنے کیلئے مختلف خربے استعمال کئے گئے ہم پر دھماکے ہو ئے فائرنگ کی گئی لیکن ہم ڈرنے والے نہیں اور ثابت قدم رہے علاقہ ہوید کے عوام نے چار شہداء کی قربانی دی اور جانی قربانی کیساتھ ساتھ الیکشن کے روز بھی بھاری مینڈیٹ کیساتھ ووٹ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پچیس جولائی کو ہم نے الیکشن ہارا نہیں بلکہ ہمیں اسمبلی سے دور رکھا گیا ،پچھلے انتخابات میں 78ہزار ووٹ ملے حالیہ انتخابات میں ایک لاکھ چھ ہزار لیکن اعداد و شمار میں تاریخ کی بد ترین دھاندلی ہو ئی اور نتائج کو تبدیل کیا گیا اصل نتائج انشاء اللہ 14اکتوبر کو ہوں گے لہذا پولنگ ایجنٹس فارم الیکشن کے روز فارم 45کے حصول تک پولنگ اسٹیشن میں ہی رہے ۔




ایک تبصرہ شامل کریں…
0 Likes
87 مناظر